سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 27
سيرة النبي الله 27 جلد 2 رسول کریم ﷺ کی صداقت کی دلیل رسول لیکچر فرمودہ 7 جنوری 1920ء میں رسول کریم ﷺ کی صداقت کی ایک دلیل فرانسیسی مصنف کے حوالہ سے بیان کرتے ہوئے حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں :۔الله جیسی رسول کریم عملے کے وقت ابتدائی حالت تھی ویسی ہی بعینہ ہماری آج سے بیس سال قبل تھی اور اب بھی قریباً ویسی ہی ہے۔رسول کریم میوہ کے اس زمانہ کی نسبت فرانس کا ایک مؤرخ لکھتا ہے کہ محمد (ﷺ) کی ایک بات عجیب تھی۔لوگ کہتے ہیں وہ جھوٹا تھا مگر میں کہتا ہوں کہ وہ کیسے جھوٹا ہوسکتا ہے۔اس کو جھوٹا نہیں کہا جاسکتا۔ہاں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس کو غلطی لگی تھی۔وہ لکھتا ہے کہ میں اس نظارہ کو دل میں لاکر حیران ہو جاتا ہوں کہ آج سے تیرہ سو سال پہلے ایک چھوٹی سی مسجد میں جس پر کھجور کی ٹہنیوں کی چھت پڑی تھی جو بارش کے وقت لیکنے لگ جاتی تھی اور نمازیوں کو کیچڑ میں نماز ادا کرنی پڑتی تھی اس میں بیٹھ کر کچھ لوگ جن کو تن ڈھانکنے کے لئے کپڑا بھی میسر نہیں تھا یہ باتیں کرتے تھے کہ ہم دنیا پر غالب آجاویں گے اور جو دین ہم پھیلانا چاہتے ہیں اس کو پھیلا دیں گے اور پھر باوجود اس بے بضاعتی کے وہ اپنی بات کو پورا کر کے دکھا دیتے ہیں۔یہ ایک معمولی بات نہیں بلکہ غیر معمولی ہے۔اس بات کو سوچنا (الفضل 26 جنوری 1920ء) 66 چاہیے۔"