سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 204
سيرة النبي الله 204 جلد 2 رسول کریم علیہ کی آمد کی ایک غرض 1924 ء میں لندن میں ویمبلے نمائش کے موقع پر ایک مذہبی کا نفرنس کا بھی انعقاد کیا گیا جس میں دنیا کے چوٹی کے مذہبی علماء کو دعوت دی گئی کہ وہ اپنے اپنے مذہب کی خوبیوں کے بارہ میں لیکچر دیں۔اس کا نفرنس میں امام جماعت احمد یہ حضرت مصلح موعود کو بھی شرکت کی دعوت دی گئی۔آپ نے اس کانفرنس کے لیے 24 مئی تا 6 جون احمدیت یعنی حقیقی اسلام ،، کے نام سے ایک ضخیم کتاب تصنیف فرمائی۔اس کتاب میں سیرت النبی ﷺ پر متعدد جگہ روشنی ڈالی گئی ہے۔چنانچہ آپ تحریر فرماتے ہیں:۔و, قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ رسول کریم علیہ کی آمد کی ایک غرض یہ بیان فرماتا ہے کہ يَأْمُرُهُمْ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهُهُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطيبتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبِيثَ وَيَضَعُ عَنْهُمْ اِصْرَهُمْ وَالْأَغْلَلَ الَّتِي كَانَتْ عَلَيْهِمُ 1 یہ نبی حکم دیتا ہے اچھی باتوں کا اور روکتا ہے بری باتوں سے یعنی کامل شریعت لایا ہے۔پھر فرماتا ہے یہ رسول کریم ہے حلال کرتا ہے پاک اور نفع رساں چیزوں کو اور حرام قرار دیتا ہے ان چیزوں کو جو بے فائدہ ہیں۔یعنی اس کی شریعت بطور چنٹی اور سزا کے نہیں بلکہ ہر اک حکم اپنے اندر کوئی نفع یا ازالہ ضرر رکھتا ہے اور ان پر سے وہ بوجھ جن کو یہ اتا رہی نہ سکتے تھے اگر اتارتے تو سزا ملتی اتارتا ہے یعنی رسوم جو کہ بوجھ بھی ہوتے ہیں مگر باوجود اس کے انسان ان کو اتار نہیں سکتا کیونکہ جانتا ہے کہ قوم ناراض ہو جائے گی اور رہنا بھی مشکل ہو جائے گا۔پھر فرماتا ہے کہ اور