سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 158
سيرة النبي الله 158 جلد 2 رسول کریم علیہ کی دعوئی سے پہلے کی زندگی الله حضرت مصلح موعود 6 اکتوبر 1922ء کے خطبہ جمعہ میں فرماتے ہیں:۔و آنحضرت ﷺ کی کونسی چیز تھی جو مخالفین پر اثر کرتی تھی۔وہ قرآن کریم سے ابتداء متاثر نہیں ہوئے بلکہ وہ محمد ﷺ کی پہلی زندگی تھی۔آپ ان میں رہے تھے، آپ کی دیانت، آپ کی راستبازی اور ہمدردی خلائق اور ایثار تھا جو ان پر اثر کرتا تھا۔دعویٰ سے پہلے آپ ان کو شرک سے منع نہیں کرتے تھے کیونکہ حکم خداوندی نہ تھا لیکن آپ خود مشرک نہ تھے۔آپ کے طور طریقہ کی خوبی ہی تھی جس کا اثر تھا اور یہ اثر اندر ہی اندر کھاتا جاتا تھا اور وہ اس کے مقابلہ میں آنکھیں نہیں اٹھا سکتے تھے۔آپ مکہ کے قریب کی پہاڑی پر چڑھ گئے اور ایک ایک قبیلہ کا نام لے کر بلایا۔جب سب جمع ہو گئے تو آپ نے ان کے سامنے ایک مشکل سوال رکھا کہ اگر میں یہ کہوں کہ اس کے پیچھے ایک لشکر ہے تو تم مان لو گے؟ یہ ایک ناممکن امر تھا کیونکہ مکہ کے لوگ اونٹ چراتے تھے اور اس کے لئے پندرہ پندرہ میل تک دور نکل جاتے تھے۔یہ کیسے ممکن ہوسکتا تھا کہ ایک لشکر اور بہت بڑا لشکر مکہ کے قریب آکر ایک اوٹ میں ہو رہتا اور مکہ والوں کو پتہ بھی نہ لگتا۔مگر ان لوگوں نے آپ کے اس ناممکن سوال کے جواب میں کہا اور آپ کے اخلاق سے متاثر ہو کر کہا کہ اگر تو کہے تو مان لیں گے کیونکہ ہم نے کبھی تجھے کو جھوٹ بولتے نہیں سنا اور تو ہمیشہ دیانت دار رہا ہے، تو ہمیشہ سچ بولتا رہا ہے۔آپ نے فرمایا اچھا میں کہتا ہوں کہ خدا ایک ہے شرک بری چیز ہے۔اگر تم شرک نہ چھوڑو گے تو تم پر عذاب آئے گا 1۔اس بات نے ان پر اثر نہ کیا بلکہ آپ کی اس زندگی نے