سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 112
سيرة النبي الله 112 جلد 2 رسول کریم ﷺ کے ساتھیوں کی فدائیت حضرت مصلح موعود نے 11 نومبر 1921ء کے خطبہ جمعہ میں فرمایا:۔خدمت دین کا کام ملازموں کے سپرد نہیں ہوسکتا بلکہ اصحاب کے سپر د ہوسکتا ہے۔صحابی وہ ہے جو صرف صحبت چاہتا ہے۔وہ کوئی مقررہ رقم نہیں مانگتا۔محمد ہے کے وقت میں جو لوگ تھے اور جنہوں نے خدمت دین کی وہ مال کے لئے آپ کے پاس نہ آئے تھے۔ان میں سے وہ لوگ جو مرتے ہوئے دولت پیچھے چھوڑ گئے وہ اس دولت کے لئے نہ آئے تھے۔نہ بادشاہت ان کا مقصد تھا نہ گورنریاں۔یہ دولت اور رتبے جو ان کو ملے محض بطور تحفہ تھے نہ کہ بطور بدلہ کے۔وہ لوگ صرف محمد اللہ کی صحبت چاہتے صلى الله تھے۔وہ اصحاب تھے ملازم نہ تھے۔وہ محمد ﷺ کا ہر ایک کام کرنے کو تیار تھے جس کو ملازم نہیں کر سکتا۔بادشاہ کا پاخانہ بھی اگر ہو تو اس کو اٹھاتے ہوئے بھنگی تک ایک نفرت محسوس کرتا ہے مگر ان لوگوں کو موقع پڑے تو اس کے اٹھانے میں بھی کراہت نہ تھی۔نہ صرف کراہت نہ تھی بلکہ فخر سمجھتے تھے۔صلح حدیبیہ کے موقع پر مکہ والوں نے اپنے میں سے ایک امیر کو شرا ئط صلح کے تصفیہ کے لئے بھیجا۔وہ آیا اور اس نے کہا کہ کیا تم ان لوگوں پر جو تمہارے گرد جمع ہیں بھروسہ کرتے ہو۔وقت پر یہ تمہیں چھوڑ کر بھاگ جائیں گے۔بھروسہ بھائیوں پر ہوتا ہے۔کیا تم ان کی خاطر بھائیوں سے بگاڑتے ہو؟ اس نے تو یہ کہا مگر ان لوگوں کی جو اصحاب تھے ملازم نہ تھے کیا حالت تھی ؟ یہ کہ آنحضرت ﷺ کے تھوک کو صلى الله زمین پر نہ گرنے دیتے تھے بلکہ ہاتھوں پر لیتے اور جسم پر مل لیتے تھے اور وضو کے پانی