سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 98
سيرة النبي الله 98 98 جلد 2 رسول کریم ﷺ کیلئے خدا کی غیرت موازنہ مذاہب فرموده 9 مارچ 1921ء میں حضرت مصلح موعود نے آنحضرت ﷺ کیلئے خدا کی غیرت کا ان الفاظ میں نقشہ کھینچا ہے فرمایا:۔ایک موٹا مسئلہ ہے اور اسی میں مسلمانوں کی حالت کا پتہ لگ جاتا ہے کہ وہ کیسے ہیں۔مسلمانوں نے یہ مان لیا ہے کہ محمد رسول اللہ علیہ تو خاک کے نیچے مدفون ہیں اور حضرت مسیح کو ذرا تکلیف پیش آئی تو خدا نے ان کو آسمان پر چڑھا لیا اور ان کے دشمنوں کو انہیں ہاتھ تک نہیں لگانے دیا۔میں کہتا ہوں اگر آسمان پر رکھے جانے کا صل الله کوئی اہل تھا تو وہ ہمارے نبی محمد رسول اللہ کے تھے لیکن یہ لوگ اس کو پسند نہیں کرتے صلى الله اور آنحضرت علے کے متعلق یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ وہ مدفون زیر زمین ہیں اور مسیح کے لئے بڑے پُر جوش قلب سے کہتے ہیں کہ وہ آسمان پر ہیں۔جب انہوں نے عیسائیوں الله کے مقابلہ میں حضرت نبی کریم عملے کی اس طرح ہتک کی تو خدا تعالیٰ نے بھی ان کو ذلیل کر دیا اور فیصلہ کر دیا کہ جس طرح یہ حضرت عیسی کو آنحضرت علی سے بڑھاتے ہیں اسی طرح ہم ان کو عیسی کے نام لیواؤں کے مقابلہ میں گرا دیں گے اور خاک میں ملا دیں گے۔پس خدا کی غیرت نے محمد رسول اللہ ﷺ کی اس ہتک کو گوارا نہ کیا اس لئے اس نے ان مسلمانوں کو ذلیل کیا اور عیسائیوں کو ان پر غالب کر دیا۔یہ لوگ جوش سے کہتے ہیں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بگڑی ہوئی امت کو مسیح ناصری سنواریں گے۔خدا نے کہا بہت اچھا ہم مسیح کے ماننے کے مدعیوں کو ہی تم پر مسلط کرتے ہیں۔پس جو کچھ ان کے ساتھ ہورہا ہے آنحضرت ﷺ کی ہتک کا نتیجہ ہے