سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 36
سيرة النبي علي 36 36 جلد 1 صلى الله شانِ خاتم الانبیاء علی حضرت خلیفۃ المسیح الاول کے دور میں اخبار وطن“ اور ”المنیر میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور حضرت خلیفہ اصیح الاول پر اعتراض کیا گیا کہ آپ نے احمدیوں اور غیر احمدیوں میں ایک نہایت معمولی فرق پر اختلاف ڈلوا دیا۔اس پر حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاح نے حضرت خلیفہ اول کی منظوری سے تشحیذ الاذہان اپریل 1911ء میں مسلمان وہی ہے جو سب ماموروں کو مانے“ کے عنوان سے مضمون لکھا۔اس مضمون میں آپ نے رسول کریم ﷺ کی شان خاتم الانبیاء پر روشنی ڈالتے ہوئے تحریر فرمایا :۔غرضیکہ اے عزیز و! ہمارا ایمان ہے کہ حضرت صاحب خدا کے مرسل تھے اور مامور من اللہ تھے اور ہمارا یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے انبیاء ہمیشہ بھیجتا رہتا ہے اور نہ معلوم اور کتنے انبیاء آگے بھیجے گا لیکن ساتھ ہی یہ بھی ہمارا ایمان ہے کہ حضرت نبی کریم محمد رؤوف رحیم رسول اللہ خاتم النبیین کے بعد کوئی تشریعی نبی نہیں آئے گا اور آپ ہر قسم کی نبوتوں کے خاتم ہیں اور آئندہ جس کو اللہ تعالیٰ تک رسوخ ہو گا وہ آپ ہی کی اطاعت کے دروازہ سے گزر کر ہوگا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں فرمایا کہ قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحِبُكُمُ اللهُ 1 اور اسی میں آپ کی عزت ہے۔کیونکہ کیا وہ شخص معزز کہلا سکتا ہے جس کے ماتحت کوئی بھی افسر نہ ہو؟ بلکہ معزز وہی ہوتا ہے جس کے ماتحت بہت سے افسر ہوں۔دنیا میں ہی دیکھ لو کہ تم ”بادشاہ کے لقب کو زیادہ معزز جانتے ہو یا شہنشاہ“ کے لقب کو۔پس شہنشاہ کا لفظ