سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 469
سيرة النبي علي 469 جلد 1 صلى الله رسول کریم ﷺ بحیثیت بہترین معلم الله حضرت مصلح موعود نے 17 مارچ 1919 ء کو جلسہ سالانہ قادیان سے خطاب کرتے ہوئے رسول کریم ﷺ کی سیرت کے بعض پہلو بھی بیان فرمائے جو درج ذیل ہیں:۔تعلیم ایک ایسی ضروری چیز ہے کہ جس کے بغیر کوئی جماعت محفوظ اور زندہ نہیں رہ سکتی۔رسول کریم ﷺ کو اس کا اتنا خیال تھا کہ آپ نے کچھ لوگوں کو اس شرط پر رہا کر دیا تھا کہ مسلمانوں کے بچوں کو تعلیم دیں 1۔چونکہ ابتدا میں صحابہ میں سے زیادہ تعداد پڑھے لکھے لوگوں کی نہ تھی اور جو لوگ تعلیم یافتہ تھے وہ اور ضروری کاموں میں لگے ہوئے تھے اس لئے رسول کریم علیہ نے کئی ایک ایسے کو جو لڑائی میں گرفتار ہو کر آئے تھے اس شرط پر رہا کر دیا کہ مسلمانوں کے بچوں کو تعلیم دیا کریں۔تو تعلیم ایک نہایت ضروری چیز ہے لیکن اس وقت تک ہماری جماعت کے لئے اس کا خاطر خواہ انتظام نہ تھا۔اسی طرح تربیت بھی بہت ضروری شے ہے کیونکہ اس کے بغیر بھی بڑے بڑے کاموں میں نقص پیدا ہو جاتا ہے اور وہ فوائد حاصل نہیں ہوسکتے جو ہونے چاہئیں۔نمازی کو لے لو۔بعض کلمات کا دہرانا ہی ضروری نہیں بلکہ بعض اور ہدایات کا صلى الله بھی بجالانا ضروری ہے مثلاً صف بندی کا حکم ہے۔یہ حکم ایسا اہم ہے کہ رسول کریم میایی نے فرمایا ہے کہ صف سیدھی کرو ورنہ تمہارے دل ٹیڑھے ہو جائیں گے اور تم میں پھوٹ پڑ جائے گی 2۔“ (عرفان الہی صفحہ 77) پھر ایک نہایت ضروری رسول کریم اللہ کی نماز با جماعت سے محبت بات نماز با جماعت ہے۔