سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 439 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 439

سيرة النبي علي 439 جلد 1 رسول کریم علیہ کی امتیازی خصوصیت حضرت مصلح موعود نے 9 اکتوبر 1917 ء کو پٹیالہ میں ایک تقریر فرمائی۔اس میں رسول کریم ﷺ کی پانچ خصوصیات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:۔وو دیگر اقوام میں بھی ایسی ایسی باتیں ملتی ہیں جن سے پتہ لگتا ہے کہ ان میں جو نبی بھیجے گئے وہ صرف ان ہی کے لئے تھے اس لئے ضروری تھا کہ وہ اپنی اپنی قوم کو ہی تعلیم دیتے حتی کہ وہ نبی آجائے جس نے کہا کہ میں تمام دنیا کے لئے بھیجا گیا صلى الله ہوں اور یہ دعویٰ اگر کسی نبی نے کیا ہے تو وہ ہمارے آنحضرت ﷺ ہی ہیں۔چنانچہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ مجھے دوسرے نبیوں کی نسبت پانچ باتوں میں فضیلت دی گئی ہے اور ان میں سے ایک یہ ہے کہ وہ اپنی اپنی قوم کے لئے بھیجے جاتے تھے مگر میں تمام جہانوں کے لئے ہوں 1۔یہ دعوی آنحضرت ﷺ سے پہلے کسی نبی نے نہیں کیا کہ میں ساری دنیا کے لئے ہوں اور کسی قوم کا یہ کہنا کہ ہمارا نبی تمام دنیا کے لیے آیا تھا درست نہیں ہوسکتا کیونکہ اس طرح تو مدعی ست گواہ چست والی مثل صادق آئے گی۔اب بے شک عیسائی صاحبان کہتے ہیں کہ حضرت مسیح تمام دنیا کے لئے بھیجے گئے تھے لیکن ان کے اپنے الفاظ بتا رہے ہیں کہ وہ صرف بنی اسرائیل کے گھرانے کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے لئے بھیجے گئے تھے اور ان کے اس قول سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی بعثت سارے جہان کے لئے نہ تھی۔پس یہ بعد کی بنائی ہوئی بات ہرگز سند نہیں ہوسکتی کہ وہ سارے جہان کی طرف بھیجے گئے تھے۔اسی طرح کسی نبی کا ایسا دعویٰ کسی اور مذہبی کتاب میں نہیں پایا جاتا۔ہم یہ نہیں کہتے کہ قرآن کے سوا اور کوئی کتاب خدا کی