سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 416 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 416

سيرة النبي علي 416 جلد 1 صلى الله رسول کریم ع کو نوافل کا خیال 28 دسمبر 1916ء کو جلسہ سالانہ قادیان کے موقع پر حضرت مصلح موعود نے ذکر الہی کے موضوع پر خطاب فرمایا۔رسول کریم ﷺ کو نوافل کا کس قدر خیال رہتا تھا اس کا صلى الله الله ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:۔رسول کریم ﷺ کو ان نوافل کا اتنا خیال تھا کہ باوجود ان کے نفل ہونے کے آپ رات کو پھر کر دیکھتے کہ صحابہ میں سے کون یہ نفل پڑھتا ہے اور کون نہیں پڑھتا۔ایک دفعہ آپ کی مجلس میں عبد اللہ بن عمرؓ کا ذکر آیا کہ وہ بہت اچھا ہے اس میں یہ خوبی ہے، یہ صفت ہے تو آپ نے فرمایا کہ ہاں بڑا اچھا ہے بشرطیکہ تہجد پڑھے 1۔چونکہ عبد اللہ بن عمرؓ جوان تھے اور تہجد پڑھنے میں سستی کرتے تھے اس لئے آپ نے اس طرح ان کو اس طرف توجہ دلائی۔پھر رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا اس میاں اور بیوی پر رحم ہو کہ اگر رات کو میاں کی آنکھ کھلے تو اٹھ کر تہجد پڑھے اور بیوی کو جگائے کہ تو بھی اٹھ کر تہجد پڑھ۔اور اگر بیوی نہ جاگے تو پانی کا چھینٹا اس کے منہ پر مارے اور جگائے۔اسی طرح اگر بیوی کی آنکھ کھلے تو وہ بھی ایسا ہی کرے کہ خود تہجد پڑھے اور میاں کو جگائے۔اگر وہ نہ جاگے تو اس کے منہ پر چھینٹا مارے 2۔دیکھو ایک طرف تو رسول کریم علیہ نے بیوی کے لئے میاں کا ادب کرنا نہایت ضروری قرار دیا ہے اور دوسری طرف تہجد کے لئے جگانے کے واسطے اگر پانی کا چھینٹا بھی مارنا پڑے تو اس کو بھی جائز رکھا ہے۔گویا رسول کریم ﷺ تہجد کو اس قدر ضروری سمجھتے تھے۔یہ رسول کریم ﷺ کی طرف سے ہے۔پھر قرآن کریم کہتا ہے کہ