سیرت النبی ؐ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 2 of 266

سیرت النبی ؐ — Page 2

کرنا ایک مشکل بلکہ محال کام ہے۔دوسرا ماخذہ یعنی حدیث سے واقعات کا جمع کرنا زیادہ قابل اعتبار ہے کیونکہ مؤرخین کی طرح محد ثین ہر ایک سنی سنائی بات کو نہیں لکھ دیتے بلکہ روایت کو آنحضرت صلی یا اسلام تک برابر چلاتے ہیں اور پھر روایت کرنے والوں کے چال چلن کو خوب پر کھ کر ان کی روایت نقل کرتے ہیں۔تیسرا طریق قرآن شریف سے آنحضرت سالی اینم کی سیرت لکھنے کا ہے اور یہ سب سے اعلیٰ ، اکمل اور تمام نقصوں سے پاک ہے لیکن یہ کام بہت ذمہ داری کا ہے اس لئے سر دست میں نے پہلے اور تیسرے ماخذ کی بجائے دوسرے مآخذ کو اختیار کیا ہے۔اگر اللہ تعالیٰ توفیق دے تو کسی وقت قرآن شریف سے بھی آنحضرت سل یا ایتم کی سیرت لکھنے کا ارادہ ہے لیکن چونکہ اختصار اور صرف اعلیٰ درجہ کی روایات کا درج کرنا ہی مقصود ہے اس لئے احادیث میں سے بھی میں نے صرف بخاری کو چنا ہے اور یہ مختصر سیرت صرف بخاری جیسی معتبر کتاب سے لی ہے اور اس کے سوا کسی اور حدیث سے مدد نہیں لی۔باوجود اس کے کہ صرف بخاری کی احادیث سے جو اصح الکتب ہے میں نے یہ سیرت اختیار کی ہے پھر بھی اختصار پر اختصار سے کام لیا ہے اور اس کو صرف رسول کریم صلی یہ تم کی سیرت کا ایک باب سمجھنا چاہیئے ورنہ اس بحر بے کنار کو عبور کرنا تو کچھ آسان کام نہیں۔چونکہ پیاروں کی ہر ایک بات پیاری ہوتی ہے اور ان کی شکل و شباہت ، چال ڈھال اور لباس و خورد ونوش کا طریق بھی دلکش اور محبت افزا ہوتا ہے اس لئے ابتداء میں میں انہی باتوں کو بیان کروں گا۔سیرت کے ساتھ اگر صورت اور عادات بھی مل جاویں تو وہ آدمی آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے۔2