سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 392
سیرت المہدی 392 کریں۔چنانچہ وقت پر حضرت مولوی صاحب نے تقریر شروع فرما دی مگر تھوڑی ہی دیر بعد وہ ماہ منور اور خورشید انور بنفس نفیس ہم پر طلوع فرما ہوا۔حضرت مولوی صاحب نے تقریر بند کی اور حضور پُر نور نے کھڑے ہوکر حاضرین کو خطاب فرماتے ہوئے کم و بیش تین گھنٹہ تک ایسی پر زور، پر معارف اور علم و معرفت سے لبریز تقریر فرمائی کہ اپنے تو درکنار، غیر بھی عش عش کر اٹھے اور ایسے ہمہ تن گوش ہو کر سنتے رہے کہ گویا مسحور تھے۔اور اس روحانی مائدہ کی ایسی لذت ان کو محسوس ہوئی کہ جس نے جسمانی غذا سے بھی ان کو مستغنی کر رکھا تھا۔جلسه اعظم مذاہب ۹۶ء میں بھی میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے حاضر وموجود تھا۔وہ نظارہ جوحضرت کی تحریر کے پڑھے جانے کے وقت آنکھوں نے دیکھا۔لاریب کم ہی پہلے کبھی دنیا نے دیکھا ہوگا۔مگر اس جلسہ میں ہماری آنکھوں نے خدا کی جس قدرت اور عظمت وسطوت کا مشاہدہ کیا وہ بلحاظ اپنی کیفیت و کمیت کے جلسہ مہوتسو سے بھی کہیں بڑھی ہوئی تھی۔اس میں اور اُس میں زمین و آسمان کا فرق تھا کیونکہ یہاں خدا کا برگزیدہ نبی اور رسول خود اپنے خدا کی معیت میں کھڑا بول رہا تھا۔جلسہ اعظم مذاہب میں مضامین علمی تھے مگر یہاں ایسے اختلافی کہ سامعین کا ان کو سن لینا بجائے خود ایک معجزہ سے کم نہ تھا۔حضور کی تقریر میں ایسی روانی تھی کہ نوٹ کرنا مشکل ہور ہا تھا اور بیان میں اتنی قوت و شوکت تھی کہ بھرے مجمع میں کسی کے سانس کی حرکت بھی محسوس نہ ہوتی تھی اور حضور اس جوش سے تقریر فرما رہے تھے کہ زور تقریر کے ساتھ ساتھ حضور پر نور خود بھی سامعین کی طرف بڑھے چلے جارہے تھے۔میں نے اپنی آنکھوں دیکھا اور اس بات کو اچھی طرح نوٹ کیا کہ حضور میز سے کئی مرتبہ چند چند قدم آگے بڑھ جاتے رہے تھے۔حضور میز کو آگے لے کر نہ کھڑے تھے بلکہ میں حضور کی پشت پر تھی۔حضور کی یہ تقریر ڈاکٹر سید محمدحسین شاہ صاحب کے مکان کے صحن میں زیادہ سے زیادہ حضور کے وصال سے ایک عشرہ پہلے ہوئی تھی جس کو تکمیل تبلیغ اور اتمام حجت کے نام سے یاد کیا کرتے تھے اور ماہر علوم ہیئت انگریز سے مکالمہ خواجہ کمال الدین صاحب کے مکان کے اوپر کے حصہ میں اس سے قبل ہو چکا تھا۔ان تقریروں کے علاوہ کئی چھوٹی بڑی تقاریر حضور نے فرما ئیں جن کی تفاصیل میں جانے کا یہ موقعہ نہیں۔کچھ