سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 173
سیرت المہدی 173 حصہ چہارم کر لیویں گے۔انشاء اللہ۔1259 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں فضل احمد صاحب دکاندار محلہ دار الفضل نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت اقدس علیہ السلام مسجد اقصیٰ میں کچھ تقریر فرما رہے تھے۔دوران تقریر حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ ”جس کام کے واسطے مجھے اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے اگر چالیس آدمی بھی ہو جاویں تو میں بڑی کامیابی حاصل کرلوں یا اپنے مقصود کو حاصل کرلوں۔ایسا ہی کوئی لفظ تھا جو مجھے اس وقت یاد نہیں رہا۔اس وقت میرے بائیں جانب حضرت مولوی نور الدین صاحب خلیفہ اول بیٹھے تھے۔جب حضور کے مبارک منہ سے یہ الفاظ نکلے تو حضرت مولوی صاحب نے فرمایا کہ ہائے افسوس ! لوگ اس مبارک وجود کو کیا کہتے ہیں۔یہ جھوٹ بولنے والا منہ ہے؟ اس کے بعد جب تقریر ختم ہوئی تو سب لوگ اپنے اپنے مکانوں کی طرف جارہے تھے۔چنانچہ میں بھی اٹھ کر چلا جب مسجد اقصیٰ سے نیچے اترے تو میں حضرت مولوی نورالدین صاحب کو جاملا۔آپ کے ساتھ اُن کا ایک شاگرد جارہا تھا۔اس وقت شاگرد نے حضور مولوی صاحب سے سوال کیا کہ حضور ! آج جو حضرت اقدس نے تقریر کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر میری جماعت سے چالیس آدمی بھی میری مرضی کے مطابق ہو جاویں تو میں کامیاب ہو جاؤں۔حضور آپ فرما دیں کہ ہم کیا گناہ کر رہے ہیں؟ نماز پڑھتے ہیں، روزے رکھتے ہیں ، کوئی بھی بُرا کام نہیں کرتے۔وہ کیا کام ہے جو حضرت صاحب کرانا چاہتے ہیں تا کہ ہم ان کی مرضی کے مطابق ہو جاویں۔اس کے جواب میں حضرت مولوی صاحب نے فرمایا کہ ہاں ! ہے تو ، بیشک آپ اچھا کام کرتے ہیں مگر اگر آج ہی آپ کو لنگر سے روٹی نہ ملے تو پھر آپ کو پتہ لگے۔کیا کیا آپ منصو بہ بازی کرتے ہیں۔1260 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ملک غلام محمد صاحب لاہور نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ وفات سے چند یوم قبل حضور علیہ السلام نے لاہور میں امراء کی دعوت کی تھی اور تقریر بھی فرمائی تھی۔حضور لاہور احمد یہ بلڈنکس میں تشریف لائے ہوئے تھے۔جمعہ کی نماز یا ظہر کی نماز کا وقت تھا۔میں نماز پڑھ کر فارغ ہو کر بیٹھا تھا۔حضور سنتیں پڑھ رہے تھے۔میں نزدیک ہی حضور کی دائیں طرف بیٹھا ہوا تھا۔حضور نے