سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 465
سیرت المہدی 465 حصہ دوم جماعت تیار کی ہے۔ایک نہایت ہی ضروری سوال ہے جسے کوئی دانشمند مورخ آپ کی سیرۃ سے خارج کرنے کا خیال دل میں نہیں لاسکتا۔بے شک ڈاکٹر صاحب موصوف یا کوئی اور صاحب یہ کہہ سکتے ہیں کہ جو خیال ظاہر کیا گیا ہے وہ درست نہیں اور حضرت مسیح موعود کی تعلیم و تربیت کا اثر کوئی خاص طور پر اچھا نہیں ہے۔لیکن اس بات کو بہر حال تسلیم کرنا پڑیگا کہ یہ بحث آپ کی سیرۃ سے ایک گہراتعلق رکھتی ہے۔جسے کسی صورت میں بھی نظر انداز نہیں کیا سکتا۔اس بحث کو ختم کرنے سے قبل میں ڈاکٹر صاحب کے اس اعتراض کے ایک اور حصہ کی طرف بھی ناظرین کی توجہ مبذول کرانا چاہتا ہوں۔ڈاکٹر صاحب لکھتے ہیں: " مصنف کا دعویٰ ہے کہ میں نے صرف اس میں روایات جمع کی ہیں اور ترتیب اور استنباط و استدلال کا کام بعد میں ہوتا رہیگا۔مگر اسی کتاب میں صفحوں کے صفحے مختلف کتابوں مثلاً براہین احمدیہ ، سیرۃ مسیح موعود مصنفہ مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم۔پنجاب چیفس اور مختلف اخبارات سے نقل کئے ہیں۔الخ گویا کتابوں اور اخباروں کی عبارتیں نقل کرنے کو ڈاکٹر صاحب استدلال و استنباط قرار دیتے ہیں مگر میں حیران ہوں کہ کسی کتاب یا اخبار سے کوئی عبارت نقل کرنا استدلال و استنباط کے حکم میں کیسے آسکتا ہے۔اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی زندگی کے حالات اپنی کسی کتاب میں درج فرمائے اور میں نے وہ حصہ سیرۃ المہدی میں درج کر دیا یا پنجاب چیفس میں جو حالات آپ کے خاندان کے درج ہیں وہ میں نے اپنی کتاب میں درج کر دیئے یا کسی اخبار میں کوئی ایسی بات مجھے ملی جو آپ کی سیرت سے تعلق رکھتی تھی اور اسے میں نے لے لیا۔تو میرا یہ فعل استدلال و استنباط کیسے بن گیا؟ میں واقعی حیرت میں ہوں کہ اس قسم کی عبارتوں کے نقل کرنے کا نام ڈاکٹر صاحب نے کس اصول کی بنا پر استدلال واستنباط رکھا ہے۔اور دنیا کی وہ کونسی لغت ہے جو اقتباس درج کرنے کو استدلال و استنباط کے نام سے یاد کرتی ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ ڈاکٹر صاحب کے قلم سے یہ الفاظ جلدی میں نکل گئے ہیں اور اگر وہ اپنے مضمون کی نظر ثانی