سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 40 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 40

سیرت المہدی 40 حصہ اوّل 50 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ طبابت کا علم ہمارا خاندانی علم ہے اور ہمیشہ سے ہمارا خاندان اس علم میں ماہر رہا ہے۔دادا صاحب نہایت ماہر اور مشہور حاذق طبیب تھے۔تایا صاحب نے بھی طب پڑھی تھی۔حضرت مسیح موعود بھی علم طب میں خاصی دسترس رکھتے تھے اور گھر میں ادویہ کا ایک ذخیرہ رکھا کرتے تھے جس سے بیماروں کو دوا دیتے تھے۔مرزا سلطان احمد صاحب نے بھی طب پڑھی تھی۔اور خاکسار سے حضرت خلیفہ ثانی نے ایک دفعہ بیان کیا تھا کہ مجھے بھی حضرت مسیح موعود نے علم طب کے پڑھنے کے متعلق تاکید فرمائی تھی۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ باوجود اس بات کے کہ علم طب ہمارے خاندان کی خصوصیت رہا ہے۔ہمارے خاندان میں سے کبھی کسی نے اس علم کو اپنے روز گار کا ذریعہ نہیں بنایا اور نہ ہی علاج کے بدلے میں کسی سے کبھی کچھ معاوضہ لیا۔51 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ تمہاری دادی ایمہ ضلع ہوشیار پور کی رہنے والی تھیں۔حضرت صاحب فرماتے تھے کہ ہم اپنی والدہ کیساتھ بچپن میں کئی دفعہ ایمہ گئے ہیں۔والدہ صاحب نے فرمایا کہ وہاں حضرت صاحب بچپن میں چڑیاں پکڑا کرتے تھے اور چاقو نہیں ملتا تھا تو سرکنڈے سے ذبح کر لیتے تھے۔والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ ایک دفعہ ایمہ سے چند بوڑھی عورتیں آئیں تو انہوں نے باتوں باتوں میں کہا کہ سندھی ہمارے گاؤں میں چڑیاں پکڑا کرتا تھا۔والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ میں نہ سمجھ سکی کہ سندھی سے کون مراد ہے۔آخر معلوم ہوا کہ ان کی مراد حضرت صاحب سے ہے۔والدہ صاحبہ فرماتی تھیں کہ دستور ہے کہ کسی منت ماننے کے نتیجہ میں بعض لوگ خصوصاً عورتیں اپنے کسی بچے کا عرف سندھی رکھ دیتے ہیں چنا نچہ اسی وجہ سے آپ کی والدہ اور بعض عورتیں آپ کو بھی بچپن میں کبھی اس لفظ سے پکار لیتی تھیں۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ سندھی غالبا دسوندھی یا دسبندھی سے بگڑا ہوا ہے جو ایسے بچے کو کہتے ہیں جس پر کسی منت کے نتیجہ میں دس دفعہ کوئی چیز باندھی جاوے اور بعض دفعہ منت کو ئی نہیں ہوتی بلکہ یونہی پیار سے عورتیں اپنے کسی بچے پر یہ رسم ادا کر کے اسے سندھی پکارنے لگ جاتی ہیں۔( اس روایت میں جو یہ ذکر آتا ہے کہ حضرت مسیح موعود بچپن میں کبھی کبھی شکار کی ہوئی چڑیا کوسرکنڈے سے