سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 404 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 404

سیرت المہدی 404 حصہ دوم طبع واشاعت لٹریچر۔مصارف ڈاک وغیر ذلک۔(۵) دین کی راہ میں ایسے اموال خرچ کئے جا سکتے ہیں جن کا استعمال گوافراد کے لئے ممنوع ہو لیکن وہ دوسروں کی رضامندی کے خلاف نہ حاصل کئے گئے ہوں یعنی ان کے حصول میں کوئی رنگ جبر اور دھو کے کا نہ ہو جیسا کہ مثلاً چوری یا ڈا کہ یا خیانت وغیرہ میں ہوتا ہے۔(۶) اسلام اور مسلمانوں کی موجودہ نازک حالت اس فتوی کی مؤید ہے۔(۷) لیکن ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ کوئی شخص اپنے آپ کو عمد سود کے لین دین میں ڈالے بلکہ مذکورہ بالا فتویٰ صرف اسی صورت میں ہے کہ کوئی حالات کی مجبوری پیش آجائے یا کسی اتفاق کے نتیجہ میں کوئی شخص سودی روپے کا وارث بن جاوے۔(۸) موجودہ زمانہ میں تجارت وغیرہ کے معاملات میں جو طریق سود کے لین دین کا قائم ہو گیا ہے اور جس کی وجہ سے فی زمانہ کوئی بڑی تجارت بغیر سودی لین دین میں پڑنے کے نہیں کی جاسکتی۔وہ ایک حالات کی مجبوری سمجھی جاوے گی جس کے ماتحت سود کا لینا دینامذکورہ بالا شرائط کے مطابق جائز ہوگا۔کیونکہ حضرت صاحب نے سیٹھی صاحب کی مجبوری کو جو ایک تاجر تھے اور اسی قسم کے حالات ان کو پیش آتے تھے اس فتویٰ کی اغراض کے لئے ایک صحیح مجبوری قرار دیا ہے۔گویا حضرت صاحب کا منشاء یہ ہے کہ کوئی شخص سود کے لین دین کو ایک غرض و غایت بنا کر کاروبار نہ کرے۔لیکن اگر عام تجارت وغیرہ میں گردو پیش کے حالات کے ماتحت سودی لین دین پیش آجاوے تو اس میں مضائقہ نہیں اور اس صورت کو ملحوظ رکھتے ہوئے یہ فتویٰ دیا گیا ہے۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نزدیک ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ سود میں ملوث ہونے کے اندیشہ میں مسلمان لوگ تجارت چھوڑ دیں یا اپنے کاروبار کوصرف معمولی دکانوں تک محد و درکھیں جن میں سود کی دقت بالعموم پیش نہیں آتی۔اور اس طرح مخالف اقوام کے مقابلہ میں اپنے اقتصادیات کو تباہ کر لیں۔(۹) اس فتویٰ کے ماتحت اس زمانہ میں مسلمانوں کی بہبودی کے لئے بینک بھی جاری کئے جا سکتے ہیں جن میں اگر حالات کی مجبوری کی وجہ سے سودی لین دین کرنا پڑے تو بشرائط مذکورہ بالا حرج نہیں۔