سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 401
سیرت المہدی 401 حصہ دوم کے ساتھ زیادہ تعلقات نہیں ہیں۔اور گھر کی عورتیں ان کے مخالف ہیں۔اور پھر وہ جلدی میں آئے ہیں۔اس حالت میں وہ زیور اور کپڑے کہاں سے بنوا لاتے۔الغرض برادری کی طرف سے اس قسم کے طعن تشنیع بہت ہوئے اور مزید برآں یہ اتفاق ہوا کہ جب تمہاری اماں قادیان آئیں تو یہاں سے ان کے خط گئے کہ میں سخت گھبرائی ہوئی ہوں اور شائد میں اس غم اور گھبراہٹ سے مر جاؤں گی۔چنانچہ ان خطوں کی وجہ سے ہمارے خاندان کے لوگوں کو اور بھی اعتراض کا موقعہ مل گیا اور بعض نے کہا کہ اگر آدمی نیک تھا تو اس کی نیکی کی وجہ سے لڑکی کی عمر کیوں خراب کی اس پر ہم لوگ بھی کچھ گھبرائے اور رخصتانہ کے ایک مہینہ کے بعد میر صاحب قادیان آکر تمہاری اماں کو لے گئے۔اور جب وہ دہلی پہنچے تو میں نے اس عورت سے پوچھا جس کو میں نے دلی سے ساتھ بھیجا تھا کہ لڑکی کیسی رہی؟ اس عورت نے تمہارے ابا کی بہت تعریف کی اور کہا کہ لڑکی یونہی شروع شروع میں اجنبیت کی وجہ سے گھبرا گئی ہوگی ورنہ مرزا صاحب نے تو ان کو بہت ہی اچھی طرح سے رکھا ہے اور وہ بہت اچھے آدمی ہیں۔اور تمہاری اماں نے بھی کہا کہ مجھے انہوں نے بڑے آرام کے ساتھ رکھا مگر میں یونہی گھبرا گئی تھی اس کے تھوڑے عرصہ کے بعد تمہاری اماں پھر قادیان آگئیں اور پھر بہت عرصہ کے بعد واپس ہمارے پاس گئیں۔442 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ میاں غلام نبی صاحب سیٹھی نے جو پہلے راولپنڈی میں تجارت کرتے تھے اور آج کل قادیان میں ہجرت کر آئے ہوئے ہیں۔مجھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک خط دیا جو حضور نے سیٹھی صاحب کو اپریل ۱۸۹۸ء میں اپنے دست مبارک سے لکھ کر ارسال کیا تھا۔اس خط میں مسئلہ سود کے متعلق حضرت کا ایک اصولی فیصلہ درج ہے اور اس لئے میں اسے ذیل میں نقل کرتا ہوں:۔بسم الله الرحمن الرحيم نحمده ونصلى على رسوله الكريم مجی عزیزی شیخ غلام نبی صاحب سلمہ تعالی۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ کل کی ڈاک میں مجھ کو آپ کا عنایت نامہ ملا۔میں امید رکھتا ہوں کہ آپ کی اس نیک نیتی اور خوف الہی پر