سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 343
سیرت المہدی 343 حصہ دوم اور خالص پر تو نبوت سے طبیعت متاثر ہوتی گئی۔376 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا۔کہ آتھم کے مباحثہ کے قریب ہی کے زمانہ میں ایک دن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے گھر کے ایک ملازم لڑکے مسمی چراغ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس بیان کیا کہ باہر دو میںمیں آئی ہیں۔حضرت صاحب اس وقت چھت کے صحن پر ٹہل رہے تھے۔فرمایا کیوں آئی ہیں؟ اس نے اپنے اجتہاد کی بنا پر کہہ دیا کہ بحث کرنے کے لئے آئی ہیں۔حضور فوراً اپنا چغہ پہن کر اور عصا ہاتھ میں لے کر نیچے اترے اور احمد یہ چوک میں تشریف لے گئے۔جب ان میموں نے حضور صاحب کو دیکھا تو کہا کہ مرزا صاحب ہم نے فلاں گاؤں میں جانا ہے ہمارے لئے کوئی سواری کا انتظام کر دیں۔موجودہ یکہ کو ہم یہیں چھوڑ دیں گے۔حضرت صاحب نے کسی خادم کو اس کا انتظام کرنے کا حکم دیا اور خود واپس گھر میں تشریف لے آئے۔در اصل ان میموں نے بطور رئیس قصبہ کے آپ سے یہ امداد مانگی تھی مگر چراغ نے یہ سمجھ کر کہ حضور ہمیشہ عیسائیوں کے ساتھ مباحثات میں مصروف رہتے ہیں اپنی طرف سے یہ اجتہاد کر لیا کہ یہ میمیں بھی اسی کام کے لئے آئی ہیں۔377 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی کے آخری زمانہ میں اکثر دفعہ احباب آپ کیلئے نیا کرتہ بنوالاتے تھے اور اسے بطور نذر پیش کر کے تبرک کے طور پر حضور کا اترا ہوا کرتہ مانگ لیتے تھے۔اسی طرح ایک دفعہ کسی نے میرے ہاتھ ایک نیا کر یہ بھجوا کر پرانے اترے ہوئے کرتے کی درخواست کی۔گھر میں تلاش سے معلوم ہوا کہ اس وقت کوئی اترا ہوا بے دھلا کر تہ موجود نہیں۔جس پر آپ نے اپنا مستعمل کر نہ دھوبی کے ہاں کا دھلا ہوا دیئے جانے کا حکم فرمایا۔میں نے عرض کیا کہ یہ تو دھوبی کے ہاں کا دھلا ہوا کرتہ ہے اور وہ شخص تبرک کے طور پر میلا کر نہ لے جانا چاہتا ہے۔حضور نہس کر فرمانے لگے کہ وہ بھی کیا برکت ہے جو دھوبی کے ہاں دھلنے سے جاتی رہے۔چنانچہ وہ کرتہ اس شخص کو دیدیا گیا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ وہ شخص غالبا یہ تو جانتا ہوگا کہ دھوبی کے ہاں دھلنے سے برکت جاتی نہیں رہتی۔لیکن محبت کا یہ بھی تقاضا ہوتا ہے کہ انسان اپنے مقدس محبوب کا اُترا