سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 178 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 178

ت المهدی۔- 178 حصہ اوّل نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ محمدی بیگم کے نکاح کی پیشگوئی میں مخالفوں کی طرف سے بڑا طوفان بے تمیزی برپا ہوا ہے۔حالانکہ اگر وہ سنت اللہ کے طریق پر غور کرتے تو بات مشکل نہ تھی۔دراصل سب سے پہلے ہم کو اس بات کا فیصلہ کرنا چاہیے کہ یہ پیشگوئی کس غرض اور کن حالات کے ماتحت تھی۔جب تک اس سوال کا فیصلہ نہ ہو پیشگوئی کا سمجھنا محال ہے۔سو جاننا چاہیے کہ یہ خیال کرنا کہ حضرت مسیح موعود اس شادی سے کسی قسم کی اپنی بڑائی چاہتے تھے۔ایک مضحکہ خیز بات ہے۔کیونکہ خدا کے فضل سے مرزا احمد بیگ کا خاندان کیا بلحاظ حسب نسب، کیا بلحاظ دنیاوی عزت و جاہت کیا بلحاظ مال و دولت حضرت مسیح موعود کے خاندان کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔اور یہ ایک ایسی بین بات ہے جس پر ہم کو کسی دلیل کے لانے کی ضرورت نہیں۔پس شادی کی یہ وجہ تو ہو نہیں سکتی تھی باقی رہا یہ خیال کہ محمدی بیگم میں خود کوئی خاص وجہ کشش موجود تھی جس کی وجہ سے حضرت کو یہ خیال ہوا۔سو جاننے والے جانتے ہیں کہ یہ بھی باطل ہے۔علاوہ ازیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حالات زندگی کو دیکھو۔کیا انصاف کو مد نظر رکھتے ہوئے آپ کی طرف کوئی نفسانی خواہش منسوب کی جاسکتی ہے۔عقل سے کورے دشمن اور اندھے معاند کا ہمارے پاس کوئی علاج نہیں۔مگر وہ شخص جو کچھ بھی عقل اور کچھ بھی انصاف کا مادہ رکھتا ہے اس بات کو تسلیم کرنے پر مجبور ہو گا کہ کم از کم جہاں تک نفسانی خواہشات کا تعلق ہے۔حضرت مسیح موعود کا عظیم الشان پرسنل کریکٹر یعنی سیرت وخلق ذاتی ایسے خیال کو دور ہی سے دھکے دیتا ہے۔تو پھر سوال ہوتا ہے کہ اس پیشگوئی کی اصل غرض کیا تھی ؟ سواس کا یہ جواب ہے کہ اس کی غرض وہی تھی جو حضرت مسیح موعود نے اپنی تصانیف میں لکھی ہے۔اور وہ یہ کہ حضرت مسیح موعود کے قریبی رشتہ دار یعنی محمدی بیگم کے حقیقی ماموں اور خالہ اور پھوپھی اور والد وغیرہ پرلے درجہ کے بے دین لوگ تھے اور دین داری سے ان کو کچھ بھی مس نہ تھا بلکہ دین کی باتوں پر تمسخر اڑاتے تھے اور اس معاملہ میں لڑکی کے ماموں لیڈر تھے اور مرزا احمد بیگ ان کا تابع تھا اور بالکل ان کے زیر اثر ہو کر ان کے اشارہ پر چلتا تھا۔اور جیسا کہ منکرین حق کا دستور ہے یہ لوگ ہمیشہ حضرت مسیح موعود سے کسی نشان کے طالب رہتے تھے اور حضرت مسیح موعود کے دعویٰ الہام پر جنسی اُڑایا کرتے تھے۔اس دوران میں اتفاق ایسا ہوا کہ حضرت صاحب کا ایک چچازاد بھائی غلام حسین مفقود الخبر ہو کر کا لمیت سمجھا گیا اور اسکے ترکہ کی تقسیم کا سوال