سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 105 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 105

105 حصہ اوّل اس شجرہ میں جن ناموں کے سامنے سٹار “ کا نشان دکھایا گیا ہے یہ ایسے لوگوں کے نام ہیں جن کی نسل آگے نہیں چلی۔129 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کئی جگہ اپنے قلم سے اپنے اور اپنے خاندان کے حالات لکھے ہیں مگر سب سے مفصل وہ بیان ہے جو کتاب البریہ میں درج ہے۔یہ بیان ایسا تو نہیں ہے کہ اس میں سب ضروری باتیں آگئی ہوں اور نہ ہی یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ حالات جو حضرت مسیح موعود نے خود دوسری جگہ تحریر فرمائے ہیں وہ سب اس میں آگئے ہیں۔لیکن چونکہ یہ بیان سب سے زیادہ مفصل ہے اور حضرت صاحب نے ایک خاص تحریک کی بنا پر تحریر فرمایا تھا اس لئے اس کے خاص خاص حصے ہدیہ ناظرین کرتا ہوں۔حضرت صاحب فرماتے ہیں۔”اب میرے سوانح اس طرح پر ہیں کہ میرا نام غلام احمد میرے والد صاحب کا نام غلام مرتضی اور دادا صاحب کا نام عطا محمد اور میرے پر دادا صاحب کا نام گل محمد تھا۔اور جیسا کہ بیان کیا گیا ہے ہماری قوم مغل برلاس ہے اور میرے بزرگوں کے پرانے کاغذات سے جواب تک محفوظ ہیں معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس ملک میں سمر قند سے آئے تھے اور ان کے ساتھ قریباً دو سو آدمی ان کے توابع اور خدام اور اہل وعیال میں سے تھے اور وہ ایک معزز رئیس کی حیثیت سے اس ملک میں داخل ہوئے اور اس قصبہ کی جگہ میں جو اس وقت ایک جنگل پڑا ہوا تھا۔جو لاہور سے تخمینا بفاصلہ پچاس کوس بگوشہ ء شمال مشرق واقع ہے۔فروکش ہو گئے جس کو انہوں نے آباد کر کے اس کا نام اسلام پورہ رکھا جو پیچھے سے اسلام پور قاضی ماجھی کے نام سے مشہور ہوا اور رفتہ رفتہ اسلام پور کا لفظ لوگوں کو بھول گیا۔اور قاضی ماجھی کی جگہ پر قاضی رہا اور پھر آخر قادی بنا حاشیہ عرصہ سترہ یا اٹھارہ سال کا ہوا کہ خدا تعالیٰ کے متواتر الہامات سے مجھے معلوم ہوا تھا کہ میرے باپ دادے فارسی الاصل ہیں وہ تمام الہامات میں نے انہی دنوں میں براہین احمدیہ کے حصہ دوم میں درج کر دیئے تھے جن میں سے میری نسبت ایک یہ الہام ہے خذوا التوحيد التوحيد يا ابناء الفارس یعنی تو حید کو پکڑو، تو حید کو پکڑو اے فارس کے بیٹو۔پھر دوسرا الہام میری نسبت یہ ہے لو كان الايمان معلقا بالثريا لناله رجل من فارس یعنی اگر ایمان ثریا سے معلق ہوتا تو یہ مرد جو فارسی الاصل ہے وہی جا کر اس کو لے آتا اور پھر ایک تیسرا الہام میری نسبت یہ ہے ان الذين كفروا رد عليهم رجل من فارس شکر اللہ سعید یعنی جو لوگ کافر ہوئے اس مرد نے جو فارسی الاصل ہے ان کے مذاہب کو رد کر دیا۔خدا اس کی کوشش کا شکر گزار ہے۔یہ تمام الہامات ظاہر کرتے ہیں کہ ہمارے آباء اولین فارسی تھے۔والحق ما اظهره الله - منه