سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 591 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 591

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۵۹۱ اس قدر مُجھ پر ہوئیں تیری عنایات و کرم جن کا مشکل ہے کہ تا روز قیامت ہو شمار آسماں میرے لئے تو نے بنایا اک گواہ چاند اور سورج ہوئے میرے لئے تاریک و تار تو نے طاعوں کو بھی بھیجا میری نصرت کے لئے تا وہ پورے ہوں نشاں جو ہیں سچائی کا مدار ہو گئے بیکار سب حیلے جب آئی وہ بلا ساری تدبیروں کا خاکہ اُڑ گیا مثل غبار سرزمین ہند میں ایسی ہے شہرت مجھ کو دی جیسے ہووے برق کا اک دم میں ہر جا انتشار پھر دوبارہ ہے اُتارا تو نے آدم کو یہاں تا وہ نخل راستی اس ملک میں لاوے ثمار لوگ سو بک بک کریں پر تیرے مقصد اور ہیں تیری باتوں کے فرشتے بھی نہیں ہیں رازدار ہاتھ میں تیرے ہے ہر خسران ونفع وعسر و ئیسر تو ہی کرتا ہے کسی کو بے نوا یا بختیار جس کو چاہے تخت شاہی پر بٹھا دیتا ہے تو جس کو چاہے تخت سے نیچے گرا دے کر کے خوار میں بھی ہوں تیرے نشانوں سے جہاں میں اک نشان جس کو تو نے کردیا ہے قوم و دیں کا افتخار حصہ پنجم