سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 563
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۵۶۳ حصہ پنجم (11) زاں تعلق ہا که با تو داشت زاں محبت ہا کہ در دل کاشتم (۱۲) خود بروں آ از پئے ابراء من اے تو کہف وملجاً و ما وائ من (۱۳) آتش کاندر دلم افروختی وز دم آن غیر خود را سوختی (۱۴) ہم ازاں آتش رُخ من برفروز ویں شب تارم مبدل کن بروز (۱۵) چشم بکشا ایں جہانِ کور را اے شدید البطش بنما زور را (۱۶) ز آسماں نور نشان خود نما یک گلے از بوستان خود نما (۱۷) ایں جہاں بینم پر از فسق و فساد غافلان را نیست وقت موت یاد (۱۸) از حقایق غافل و بیگانه اند ہمچو طفلاں مائل افسانه اند (۱۹) سرد شد دلها زمہر روئے دوست روئے دلہا تافته از کوئے دوست (۲۰) سیل در جوش است و شب تاریک و تار از کرمها آفتابی را برابر ترجمہ اشعار۔(۱۱) میں تجھے اس تعلق کا واسطہ دیتا ہوں کہ جو مجھے آپ سے ہے۔ہاں اس محبت کا واسطہ دیتا ہوں جس کا پودہ میں نے اپنے دل میں بورکھا ہے۔(۱۲) تو آپ مجھ کو ان الزامات سے ( جو اندھی دنیا لگا رہی ہے) بری ٹھہرانے کے لئے باہر نکل تو ہی تو میری پناہ اور میرا مادی و ملجا ہے۔(۱۳) وہ آگ جو تو نے میرے دل میں روشن کی ہے۔اور جس نے غیر اللہ کی محبت کو جلا ڈالا ہے۔(۱۴) اس آگ سے میرے چہرہ کو منور کر دے اور میری اس تاریک و تار رات کو روز روشن سے بدل دے۔(۱۵) اس اندھی دنیا کی آنکھوں کو روشن کر دے۔اے شدید البطش تو اپنی قوت و قدرت کو ظاہر فرما۔(۱۶) آسمان سے اپنے نور کے نشان دیکھا۔اپنے باغ سے ایک پھول کھلا دے۔(۱۷) میں دیکھتا ہوں کہ یہ دنیا فسق و فساد سے بھری ہوئی ہے۔اور غفلت کا اس قدر دور دورہ ہے کہ غافل انسان موت کو بھول چکے ہیں۔(۱۸) حقیقت سے بالکل غافل اور بیگانہ ہیں۔بچوں کی سی حالت ہو چکی ہے اور فسانوں پر مائل ہیں۔( ۱۹ ) دلوں سے دولت حقیقی کی محبت ٹھنڈی ہوگئی ہے۔اور دلوں کو کو چہ دوست سے پھیر دیا ہے۔(۲۰) حالت ایسی ہو چکی ہے کہ طوفان امڈا آ رہا ہے اور ات اندھیری ہے۔پس اس حالت کو دور کر کے اپنی رحمت وکرم سے آفتاب کو روشن کر۔