سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 560
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۵۶۰ حصہ پنجم ومجدد ہوکر آپ نے براہین احمدیہ کی تالیف کا سلسلہ شروع کر دیا تھا اور اسی سلسلہ میں مختلف رنگوں میں اتمام حجت کر رہے تھے۔۱۸۸۶ء کے اوائل میں اللہ تعالیٰ کے اشارہ سے آپ نے ہوشیار پور کا تاریخی سفر کیا اور وہاں آپ عبادت اور دعا میں مصروف رہے ان دعاؤں کو اللہ تعالیٰ نے شرف قبولیت بخشا چنانچہ ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء کے اشتہار میں آپ با علام الہی تحریر فرماتے ہیں۔” خدائے رحیم و کریم بزرگ و برتر نے جو ہر چیز پر قادر ہے (جَلَّ شَانُهُ وَ عَزَّ اِسُمُهُ ) مجھ کو اپنے الہام سے مخاطب کر کے فرمایا کہ میں تجھے ایک رحمت کا نشان دیتا ہوں اسی کے موافق جو تو نے مجھ سے مانگا۔سو میں نے تیری تضرعات کو سنا اور تیری دعاؤں کو اپنی رحمت سے بپا یہ قبولیت جگہ دی۔“ ( مجموعه اشتہارات جلدا صفحه ۹۵ طبع بار دوم ) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے بے شمار دعائیں ان ایام میں کیں۔ہوشیار پور پہنچ کر چالیس دن تک دعا و عبادت میں مصروف رہے تھے اس کے تفصیلی حالات سوانح حیات میں آتے ہیں۔یہاں یہ مقصود ہے کہ چالیس دن تک کس قدر دعا ئیں آپ نے کی ہوں گی یہ چلہ ایسا ہی ہے جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام نے چالیس دن تک اللہ تعالیٰ کے حضور خلوت میں حاضر رہ کر پورا کیا تھا۔اس سے فارغ ہو کر آپ جبکہ وہاں مقیم تھے تو ماسٹر مرلی دھر صاحب سے ایک مباحثہ ہوا جو سُرمہ چشم آریہ کے نام سے شائع ہوا اور اس کے ساتھ ہی آپ نے یہ دعائے مباہلہ شائع کی اور اس کے ساتھ ایک اشتہار دعوت چہل روزہ بھی نشان نمائی کے لئے شائع فرمایا تھا مگر کسی کو اس میدان میں آنے کی جرات نہ ہوئی لیکھر ام آریہ نے جب بخیال خویش سُرمہ چشم آریہ کا جواب لکھا تو اس نے بھی دعائے مباہلہ کے جواب میں ایک دعا شائع کی مگر جو اس اصل پر نہ تھی جو حضرت اقدس نے پیش کیا تھا تاہم انجام کار وہ خدا تعالیٰ کی بشارت کے موافق حضرت اقدس کی زندگی میں ۱۸۹۷ء میں فوت ہو گیا بحالیکہ جوان عمر تھا اور اللہ تعالیٰ نے حضرت اقدس کو اس کی وفات کے بعد بھی ایک لمبے عرصہ تک حیات طیبہ عطا کی۔اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ عَلَى آلِ مُحَمَّدٍ وَ بَارِكُ وَسَلَّمَ -