سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 529
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۵۲۹ عرصہ تخمیناً بارہ برس کا ہوا ہے کہ ایک ہندو صاحب کہ جواب آریہ سماج قادیان کے ممبر اور صحیح و سلامت موجود ہیں۔(اب فوت ہو چکے۔عرفانی ) حضرت خاتم الرسل صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات اور آنجناب کی پیشین گوئیوں سے سخت منکر تھا۔اور اس کا پادریوں کی طرح شدّت عناد سے یہ خیال تھا کہ یہ سب پیشگوئیاں مسلمانوں نے آپ بنا لی ہیں۔ورنہ آنحضرت پر خدا نے کوئی امر غیب ظاہر نہیں کیا۔اور اُن میں یہ علامت نبوت موجود ہی نہیں تھی۔مگر سبحان اللہ کیا فضل خدا کا اپنے نبی پر ہے۔اور کیا بلندشان اس معصوم اور مقدس نبی کی ہے کہ جس کی صداقت کی شعاعیں اب بھی ایسی ہی چمکتی ہیں کہ جیسی قدیم سے چمکتی آئی ہیں۔کچھ تھوڑے دنوں کے بعد ایسا اتفاق ہوا کہ اس ہندو صاحب کا ایک عزیز کسی نا گہانی بیچ میں آ کر قید ہو گیا۔اور اُس کے ہمراہ ایک اور ہندو بھی قید ہوا۔اور ان دونوں کا چیف کورٹ میں اپیل گزرا۔اس حیرانی اور سرگردانی کی حالت میں ایک دن اس آریہ صاحب نے مجھ سے یہ بات کہی کہ غیبی خبر اسے کہتے ہیں کہ آج کوئی یہ بتلا سکے کہ اس ہمارے مقدمہ کا انجام کیا ہے۔تب میں نے جواب دیا کہ غیب تو خاصہ خدا کا ہے اور خدا کے پوشیدہ بھیدوں سے نہ کوئی نجومی واقف ہے نہ رمال نہ فال گیرنہ اور کوئی مخلوق۔ہاں خدا جو آسمان و زمین کی ہر یک مھمدنی سے واقف ہے اپنے کامل اور مقدس رسولوں کو اپنے ارادہ اور اختیار سے بعض اسرار غیبیہ پر مطلع کرتا ہے۔اور نیز کبھی کبھی جب چاہتا ہے تو اپنے بچے رسول کے کامل تابعین پر جو اہل اسلام ہیں ان کی تابعداری کی وجہ سے اور نیز اس باعث سے کہ وہ اپنے رسول کے علوم کے وارث ہیں بعض اسرار پوشیدہ اُن پر بھی کھولتا ہے تا ان کے صدق مذہب پر ایک نشان ہو۔لیکن دوسری قومیں جو باطل پر ہیں جیسے ہندو اور اُن کے پنڈت اور عیسائی اور اُن کے پادری۔وہ سب اُن کامل برکتوں سے بے نصیب ہیں۔میرا یہ کہنا ہی تھا کہ وہ شخص اس بات پر اصراری ہو گیا کہ اگر اسلام کے متبعین کو دوسری قوموں پر ترجیح ہے تو اسی موقع پر اس ترجیح کو دکھلانا چاہئے۔اس کے