سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 299
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۹۹ حاصل کیا جائے۔اس لڑکے محمد بیگ کے کتنے خط اس مضمون کے پہنچے ہیں کہ مولوی صاحب پولیس کے محکمہ میں مجھ کو نو کر کرا دیں۔مکتوبات احمد جلد ۲ صفحہ ۱۱۴۱۱۳ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) اس خط کے بعد حضرت مولوی صاحب نے اُس کو پولیس میں نوکر کرا دیا۔ان واقعات سے ظاہر ہے کہ آپ ہر طرح سے مخلوق خدا کی نفع رسانی کے لئے آمادہ رہتے تھے اور داد و دہش اور شفاعت و سپارش سے کبھی دریغ نہ فرماتے۔باوجود ان باتوں کے جہاں آپ دیکھتے کہ کچھ دینا مسرفانہ رنگ رکھتا ہے آپ اس سے پر ہیز فرماتے۔ایک مسجد کے لئے چندہ کی درخواست ۲۱ رمئی ۱۹۰۱ء کا واقعہ ہے کہ کہیں سے خط آیا کہ ہم ایک مسجد بنانا چاہتے ہیں اور تبر کا آپ سے بھی چندہ چاہتے ہیں۔حضرت امام علیہ السلام نے فرمایا کہ ہم چندہ تو دے سکتے ہیں اور یہ کچھ بڑی بات نہیں۔مگر جبکہ خود ہمارے ہاں بڑے بڑے اہم اور ضروری سلسلے خرچ کے موجود ہیں جن کے مقابلہ میں اس قسم کے خرچوں میں شامل ہونا اسراف معلوم ہوتا ہے تو ہم کس طرح سے شامل ہوں۔یہاں جو مسجد خدا بنا رہا ہے اور وہی مسجد اقصیٰ ہے وہ سب سے مقدم ہے آپ لوگوں کو چاہیے کہ اس کے واسطے روپیہ بھیج کر ثواب میں شامل ہوں۔ہمارا دوست وہ ہے جو ہماری بات کو مانے نہ وہ کہ جو اپنی بات کو مقدم رکھے۔