سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 215
سیرت ، حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۱۵ نہایت اضطراب سے بھرا ہوا تھا اس تار کے بعد آیا جس میں وفات کی خبر تھی۔اس خانہ ویرانی سے جو دوبارہ وقوع میں آگئی رنج اور غم تو بہت ہے اور نہ معلوم آپ پر کیا کیا قلق اور رنج گزرا ہوگا لیکن خدا وند کریم ورحیم کی اس میں کوئی بڑی حکمت ہوگی۔یہ بیماری طبیبوں کے نزدیک متعدی بھی ہوتی ہے اور اس گھر میں جو ایسی بیماری ہو سب کو خطرہ ہوتا ہے اور خاوند کے لئے سب سے زیادہ۔سوشاید ایک یہ بھی حکمت ہو۔خدا وند تعالیٰ عزیزی سیٹھ احمد صاحب کی عمر دراز کرے اور اس کے عوض میں بہتر صورت عطا فرمائے۔یہ ضروری ہے کہ آپ اس غم کو حد سے زیادہ اپنے دل پر نہ ڈالیں کہ ہر ایک مصیبت کا اجر ہے اور مناسب ہے کہ اب کی دفعہ ایسے خاندان سے رشتہ نہ کریں جن میں یہ بیماری ہے اور نیز جو آپ نے اپنے لئے تحریک کی تھی اس تحریک میں سُست نہ ہوں۔خدا تعالیٰ پر توکل کر کے ہر ایک کام درست ہو جاتا ہے۔باقی سب خیریت ہے۔کتاب تریاق القلوب چھپ رہی ہے انشاء اللہ القدیر دو تین ہفتہ تک چھپ جائے گی باقی خیریت ہے۔والسلام خاکسار مرزا غلام احمد ۶ استمبر ۱۸۹۹ء مکتوبات احمد جلد ۲ صفحہ ۴۰۳ مطبوعه ۲۰۰۸ء) غرض حضرت مسیح موعود علیہ السلام عیادت اور تعزیت کے لئے ہمیشہ مسنون طریق اختیار کرتے اور ان لوگوں کو ایسے طور پر تسلی اور حوصلہ دلاتے کہ اس وقت وہ ہم و غم ان کے دل سے ضرور کا فور ہو جاتا۔اور اس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ آپ کے قلب مطمئن سے وہ بات نکلا کرتی تھی اور اس میں سچی ہمدردی اور حقیقی غم گساری کی روح ہوتی تھی۔تکلف اور دنیا سازی نہیں ہوتی تھی۔