سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 23
23 یہ بہت نیک سیرت اور حلیم الطبع تھے۔لکھنا پڑھنا سیکھ لیا تھا۔قرآن کریم بھی پڑھ لیا تھا بچپن کی اس عمر میں ایسے نیک و پاک آثار تھے کہ لوگ انہیں ولی کہہ کر پکارتے۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی بیان فرماتے ہیں کہ ہم جب چھوٹے تھے تو ہمیں مرغیاں پالنے کا شوق ہوا۔تو ہم نے کچھ مرغیاں رکھیں۔کچھ میر محمد اسحق صاحب جو حضرت اماں جان کے بھائی تھے، انہوں نے رکھیں اور کچھ میاں بشیر احمد صاحب نے رکھیں۔ہم اُن کے انڈے جمع کرتے اور پھر اُن سے بچے نکالتے یہاں تک کہ سو کے قریب مرغیاں ہو گئیں۔صبح صبح ہم جاتے، مرغیوں کے ڈربے کھولتے ، انڈے گنتے ، پھر فخر کے طور پر ایک دوسرے سے مقابلہ کرتے کہ میری مرغی نے اتنے انڈے دیئے اور تمہاری نے اتنے۔ہمارے اس شوق میں مبارک احمد مرحوم بھی شامل ہو جاتا۔اس طرح بیماری میں کسی نے خواب دیکھی کہ مبارک احمد کی شادی ہو رہی ہے۔جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سامنے یہ خواب بیان ہوئی تو آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ اس کی تعبیر تو موت ہے لیکن بعض تعبیر کرنے والوں نے لکھا ہے کہ اگر ظاہری رنگ میں پوری کر دی جائے تو بعض دفعہ بری خبر مل جاتی ہے۔اس لئے آؤ مبارک احمد کی شادی کر دیں۔