سیرت حضرت اماں جان — Page 320
320 تعزیتی خطوط کے جوابات حضرت اُم المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی وفات پر تعزیتی خطوط کے موصول ہونے پر حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو جواب احباب کو ارسال ہوا تھا، درج ذیل کیا جاتا ہے۔بسم اللہ الرحمن الرحیم محمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم مکرمی۔السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ۔آپ کا خط حضرت اُم المومنین کی وفات پر تعزیت کا موصول ہوا۔جزاکم اللہ احسن الجزاء۔اس غم میں ہم اور آپ برابر کے شریک ہیں۔روحانی اولاد کے جذبات ایسے ہی ہونے چاہئیں۔اللہ تعالیٰ آپ کو اور ہمیں اُن کی وفات سے جو خلا پیدا ہو گیا ہے اُس کے بداثرات سے بچائے۔اور اُن کی دعاؤں سے ہمیشہ حصہ دلا تار ہے۔اور اُن کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس جانا ہماری کمزوریوں کی وجہ سے ہماری شرمندگی کا موجب نہ بنے۔بلکہ اللہ تعالیٰ ہماری کسی نا چیز خدمت کو جو ہم سے ہوئی ہے۔نیک رنگ میں ان کے سامنے پیش کرے تا اُن کی دعاؤں اور حضرت اُم المومنین کی دعاؤں سے ہمیں ہمیشہ حصہ ملتا ر ہے اور خدا کرے کہ ہم اور ہماری نسلیں اُن کے نیک نمونہ پر چل کر اسلام اور احمدیت کے لئے باعث فخر وعزت بنتے رہیں۔باقی افراد خاندان کی طرف سے بھی میں اس شرکت غم پر آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔والسلام۔حوالہ جات خاکسار مرز امحمود احمد ۳ الفضل لا ہور ۲۳ را پریل ۱۹۵۲ء۔الفضل لا ہور۴ / جون ۱۹۵۲ء ص ۲۔س یا ہنامه در ولیش قادیان جون جولائی ۱۹۵۲ء صفحه ۴۸-۵۱ تمت بالخير