سیرت حضرت اماں جان — Page 306
306 قطعہ ء تاریخ وفات از ڈاکٹر محمد بدرالحسن صاحب کلیم از پاک پتن ) آپ مدیرہ مصباح کے نام لکھتے ہیں : آپ کا رسالہ اُم المومنین نمبر میری بچی بشری خاتون کے نام پہنچا ہم سب کو بہت خوشی حاصل ہوئی۔خدا آپ کو اس کا اجر عظیم بخشے۔اس میں حضرت اماں جان کے متعلق ایک تاریخی قطعہ میری نظر سے گزرا۔فاضل شاعر نے تاریخ وفات خوب نکالی ہے۔ہم بھی ایک تاریخ پیش کرتے ہیں۔فاضل شاعر نے تو سب کو الٹ دیا ہے ہم صرف ہزار والے ہند سے کو اکائی کی جگہ دینا چاہتے ہیں جس سے بجائے ہجری سن کے عیسوی سن برآمد ہوگا۔وہ یہ ہے۔وقت رحلت کسی نے فرمایا + ہم چلے گھر تر اخدا حافظ ۲۱۹۵ اب ہم صرف ۲ کے ہندسے کو اکائی کی جگہ پر رکھ دیتے ہیں زیادہ اُلجھن میں ڈالنا نہیں چاہتے۔بدلنے سے ۱۹۵۲ برآمد ہوا۔یہی ہمارا مقصود ہے۔۱۲) تاریخ وفات مرکز میں چلے جانے کے ایام تھے آئے اب باغ شمرور تو خلد برین رفت ۱۹۵۲ء ۱۹۵۲ء نصرت جہاں بیغم عبدہ ۱۹۵۲ء