سیرت حضرت اماں جان

by Other Authors

Page 9 of 326

سیرت حضرت اماں جان — Page 9

اپریل ۱۹۳۱ء: حضرت سیدہ نصرت جہاں بیگم صاحبہ اپنے بھائی حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب سول سرجن کے ہاں مظفر گڑھ تشریف لے گئیں۔۲۹ تحریک جدید کے پنج ہزاری مجاہدین میں آپ کا انہیں سالہ چندہ 6373 روپے تھا۔مکرم محترم حضرت چوہدری برکت علی صاحب وکیل المال تحریک جدید تحریر کرتے ہیں : آپ کا انیس سالہ حساب تحریر کرتے ہوئے یہ نوٹ دینا ضروری ہے کہ آپ نے کسی سال بھی وعدہ نہیں فرمایا بلکہ ہر سال جو نہی سید نا حضرت خلیفتہ المسیح ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز تحریک جدید کے چندہ کا اعلان فرماتے اس کے معاً بعد آپ اپنا چندہ گزشتہ سال سے اضافہ کے ساتھ نقد عطا فرما تیں۔اسی طرح آپ سترھویں سال تک اپنی جیب خاص سے ادا فرماتی رہیں۔آپ کی وفات کے بعد حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرف سے سال ۱۹،۱۸ کا چندہ ادا ۱۹۳۳ء: فرمایا۔جزاها الله خيراً واكرم مثواهافی اعلی علیین آمین۔حضرت اُم المومنین کا ہر سال کا اضافہ جماعت احمدیہ کی ہر خاتون کے لئے اسوۂ حسنہ ہے نہ صرف عورتوں کے لئے بلکہ ان مردوں کے لئے بھی نمونہ ہے جو کم سے کم شرح سے تحریک جدید کا چندہ دیتے ہیں اور پھر کم سے کم اضافے کرتے ہیں وہ اس شاندار نمونہ سے سبق حاصل کر کے اپنے معیار قربانی کو بلند تر کریں اور اپنی حیثیت کے مطابق وعدے کریں اور حتی المقدور جلدی ادا کرنے کی کوشش کریں“۔۳۰ ۱۹۳۳ء میں حضرت اماں جان رضی اللہ عنہا ضلع رہتک تشریف لے گئیں۔جہاں آپ کے بھائی حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب بطور سول سر جن خدمات بجالا رہے تھے۔اس ۲۳ فروری ۱۹۳۳ء سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے حضرت سیدہ اماں جان صاحبہ کی کوٹھی بیت النصرت“ کا سنگِ بنیاد رکھا۔یہ کوٹھی حضرت اماں جان صاحبہ نے حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کے لئے بنوائی تھی۔۳۲