سیرت طیبہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 1 of 315

سیرت طیبہ — Page 1

سیرت طیبہ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُه وَ نُصَلَّى عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيم سیرت طیبہ ( حضرت مسیح موعود کے خلق عظیم کے تین درخشاں پہلو ) اشْهَدُ أَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَاشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ آج حضرت میرزا غلام احمد مسیح موعود علیہ السلام مقدس بانی سلسلہ احمدیہ کی وفات پر نصف صدی سے کچھ اوپر گذرتا ہے۔میں اس وقت قریباً پندرہ سال کا تھا اور یہ وقت پورے شعور کا زمانہ نہیں ہوتا مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اخلاق فاضلہ کے تین خاص پہلو اس قدر نمایاں ہو کر میری آنکھوں کے سامنے پھر رہے ہیں کہ گویا میں اب بھی اپنی ظاہری آنکھوں اور اپنے مادی کانوں سے ان کے بلند و بالا نقوش کو دیکھ رہا اور ان کی دلکش و دل آویز گونج کوسن رہا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلق عظیم کے یہ تین پہلو (اول) محبت الہی اور ( دوم ) عشق رسول اور ( سوم ) شفقت علی خلق اللہ سے تعلق رکھتے ہیں اور انہی تین پہلوؤں کے چند جستہ جستہ واقعات کے متعلق میں اس جگہ کچھ بیان کرنا چاہتا ہوں۔میرا یہ بیان ایک طرح سے گویا دریا کو کوزے میں بند کرنے کی کوشش کا رنگ رکھتا ہے اور کوزہ بھی وہ جو بہت