سیرت طیبہ — Page 230
۲۳۰ دوستو اور عزیزو! آپ نے حضرت مسیح موعود کی وصیت والے کلام کا اقتباس من لیا۔اب اس پر عمل کرنا اور اس کی روح پر قائم رہنا ہم سب کا مشترکہ کام ہے۔خدا کرے کہ ہم اس ذمہ داری کو ایسے رنگ میں ادا کرنے کی توفیق پائیں جو قیامت کے دن خدا کی رضا اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشنودی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سرخروئی کا موجب ہو۔اور ہماری ناچیز کوششوں میں خدا ایسی فوق العادت برکت ڈالے کہ ان کے ذریعہ اسلام کو پھر وہ شان و شوکت اور وہ چمک دمک اور وہ غلبہ اور سر بلندی حاصل ہو جائے جو اسے پہلے زمانے میں حاصل ہوئی تھی بلکہ اس سے بھی بڑھ کرتا کہ ہمارے آقا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قدم اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے دور میں آگے ہی آگے اٹھتا چلا جائے۔اور خدا کا یہ فرمان کامل آب و تاب کے ساتھ پورا ہو کہ لَلْآخِرَةُ خَيْرٌ لَّكَ مِنَ الْأَوْلى أَمِين يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ - وَأَخِرُ دَعْوَانَا آنِ الْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ - اسلام اور احمدیت کا ادنیٰ خادم خاکسار مرزا بشیر احمد ربوہ ۲۷ / دسمبر ۱۹۶۱ء