سیرت طیبہ محبوب کبریا ﷺ

by Other Authors

Page 74 of 99

سیرت طیبہ محبوب کبریا ﷺ — Page 74

”اے نبی اپنی بیویوں سے کہ کہ اگر تم دنیا اور اس کی زینت چاہتی ہو تو آؤ میں تمہیں کچھ دنیوی سامان دے دیتا ہوں اور تم کو نیک طریق سے رخصت کر دیتا ہوں۔اور اگر تم اللہ اور اُس کے رسول اور اُخروی زندگی کے گھر کو چاہتی ہو تو اللہ تعالیٰ نے تم میں سے پوری طرح اسلام پر قائم رہنے والیوں کے لئے بہت بڑا انعام تجویز کیا ہے۔“ اس سوال کے جواب میں امہات المومنین کا یہی جواب تھا کہ انہیں دنیوی مال و منال سے سروکار نہیں بلکہ وہ اپنے پیارے خدا اور اس کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت اور رضا کے تحت اپنی زندگیاں بسر کرنا چاہتی ہیں اور اُنہوں نے صبر اور استقلال سے اسی مؤقف پر اپنی زندگیاں گزار ہیں۔شادی کے ذریعہ سے انسان بنی نوع کی ہمدردی کی بنیاد ڈالتا ہے۔اس بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: خَيْرُكُمْ خَيْرُ كُمْ لِأَهْلِهِ یعنی تم میں سے سب سے زیادہ بنی نوع انسان کے ساتھ بھلائی کرنے والا وہی ہو سکتا ہے کہ پہلے اپنی بیوی کے ساتھ بھلائی کرے۔مگر جو شخص اپنی بیوی کے ساتھ ظلم اور شرارت کا برتاؤ رکھتا ہے ممکن نہیں کہ وہ دوسروں کے ساتھ بھی بھلائی کر سکے کیونکہ خدا نے آدم کو پیدا کر کے سب سے پہلے آدم کی محبت کا مصداق اُس کی بیوی کو ہی بنایا ہے پس جو شخص اپنی بیوی سے محبت نہیں کرتا یا اُس کی خود بیوی ہی نہیں۔وہ کامل انسان ہونے کے مرتبہ سے گرا ہوا ہے اور شفاعت کی دو شرطوں میں سے ایک شرط اُس میں مفقود ہے اس لئے اگر عصمت اُس میں پائی بھی جائے تب بھی وہ شفاعت کرنے کے لائق نہیں لیکن جو شخص کوئی بیوی نکاح میں لاتا ہے وہ اپنے لئے بنی نوع کی ہمدردی کی بنیاد ڈالتا ہے کیونکہ ایک بیوی بہت سے رشتوں کا موجب ہو جاتی ہے اور بچے پیدا ہوتے ہیں اُن کی بیویاں آتی ہیں اور بچوں کی نانیاں اور بچوں کے ماموں وغیرہ ہوتے ہیں اور اس طرح پر ایسا شخص خواہ نخواہ محبت اور ہمدردی کا عادی ہو جاتا ہے اور اس کی اس عادت کا دائرہ وسیع ہو کر سب کو اپنی ہمدردی سے حصہ دیتا ہے۔ریویو آف ریلیجنز اُردو جلد اول صفحه ۱۷۵ تا ۱۷۷ بحوالہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی اپنی تحیر روں کی رو سے صفحہ ۴۲۳) 74