سیرت طیبہ محبوب کبریا ﷺ — Page v
پیش لفظ میں اس مضمون کو اپنے پیارے آقا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بابرکت اسم گرامی سے معنون کرتا ہوں۔تذکرہ ایڈیشن پنجم مطبوعہ قادیان کے صفحہ نمبر ۶۳ پر حضور علیہ السلام کے ۱۸۶۶ء کے میں بابرکت الہام درج ہیں، اُن میں اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان اور خوشخبری درج ہے۔تیرے خالص اور دلی محبوں کا گروہ بڑھاؤں گا اور اُن کے نفوس اور اموال میں بھی برکت بخشوں گا۔“ چنانچہ جب میری والدہ رحیمن بیبی صاحبہ صحابیہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اہلیہ حضرت مولوی قدرت اللہ صاحب سنوری نے اپنی بیماری اور کمزوری کی حالت میں ڈاکٹروں اور حکیموں کے اُن کو لا علاج قرار دینے کے بارہ میں حضور علیہ السلام کی خدمت اقدس میں سارا حال بیان کیا اور دعا کی درخواست کی تو حضور علیہ السلام نے دومرتبہ دعا کرنے کا وعدہ فرمایا اور پھر تیسری مرتبہ حضور علیہ السلام نے اپنا رخ انور آسمان کی طرف بلند کرتے ہوئے فرمایا کہ جاؤ اُن سے کہہ دو ( یعنی اپنے خاوند سے کہہ دو کہ اتنی اولاد ہوگی کہ سنبھال نہیں سکو گے۔“ چنانچہ خدائے قادر و توانا رب العالمین نے اس قول عظیم کو شرف قبولیت بخشے ہوئے لفظ بہ لفظ پورا فرمایا اور 14 بچے عطا فرمائے جن میں سے ایک یہ عاجز نابکار بھی ہے۔یہ تحریر اس لیے پیش کی جارہی ہے کہ یہ حضرت امام الزمان مهدی دوران عاشق صادق حضرت رسول کریم ﷺ کی صداقت کا چمکتا نشان ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کے متعلق تو کہا جاتا ہے کہ اُنہوں نے مردے زندہ کئے لیکن مسیح محمدی علیہ السلام نے خدائے قادر و توانا کی عظمت اور جلالت ظاہر کرنے کے لئے اس سے نیست سے ہست کا معجزہ مانگا اور بڑی شان سے پورا ہوا۔فالحمد للہ علی ذالک۔