سیرت طیبہ محبوب کبریا ﷺ — Page 41
(۵) آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دنیا کو پیغام حق پہنچانا ١ - يَأَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ وَإِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ وَاللهِ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ ترجمہ: اے رسول! تیرے رب کی طرف سے جو کلام بھی تجھ پر اتارا گیا ہے اسے لوگوں تک پہنچا۔اگر تو نے ایسانہ کیا تو گویا تو نے اس کا پیغام نہیں پہنچایا۔ب فَاصْدَعُ بِمَا تُؤْمَرُ - (المائده: ۶۸ تفسیر صغیر صفحه ۱۹۴) جس بات کے پہنچانے کا تجھے حکم دیا جاتا ہے وہ کھول کر لوگوں کو بتا دے۔(الحجر: ۹۵ تفسیر صغیر صفحه ۴۲۸) ج- وَأَنْزَلْنَا إِلَيْكَ الذِّكَرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيْهِمْ اور ہم نے تجھ پر یہ کامل ذکر نازل کیا ہے تاکہ تو لوگوں کو اس فرمان الہی سے آگاہ کرے جو تیری طرف اتارا گیا ہے۔(النحل: ۴۵) د - أَدْعُ إِلى سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ 41