مسلمانوں کے سائنسی کارنامے

by Other Authors

Page 46 of 128

مسلمانوں کے سائنسی کارنامے — Page 46

79 78 کی سیاحت کے دوران اس مینارہ کا مشاہدہ کیا تھا۔مینارے کے اندر سیڑھیوں کی جگہہ ریمپ (ramp) ہے۔چنانچہ مؤذن اذان دینے کے لیے گھوڑے پر سوار ہو کر اوپر کی منزل پر جاتا تھا۔اس کی تصنیف کتاب الہیہ میں ایک باب اسفیر یکل ایسٹرونومی پر ہے جس سے یورپ میں ٹریگا نومیٹری کے علم میں توسیع ہوئی۔1970ء میں یو نیورسٹی آف مانچسٹر ) Manchester) ، انگلینڈ میں ایک طالب علم آر۔پی۔لارچ ( R۔P۔Lorch) کو جا R۔P۔Lorc) کو جابر اور مغرب میں اس کے اثرات" (Jaber & his influence in the West) موضوع پر مقالہ لکھنے ، ڈاکٹریٹ کی ڈگری دی گئی تھی۔ابن الحصار (بارہویں صدی) کا ذکر ابن خلدون نے اپنے مشہور مقدمے میں اس کی ریاضی پر تصنیف کتاب الحصار الصغیر کے حوالے سے کیا تھا۔موسیٰ ابن طبون (Moses lon Tamoon) نے اس کتاب کا ترجمہ 1271ء میں عبرانی میں کیا تھا۔1893 ء میں دریافت ہونے والے ایک مخطوطے کے مطابق کتاب کا نام کتاب البیان والتذکر ہے۔جرمن اسکالر ایچ سوتر (H۔Suter) نے اس کا جرمن ترجمہ کیا تھا۔نورالدین البطر و جی (1204ء) اپنے دور کا نامور ہئیت داں تھا اس کی تصنیف کتاب فی البیة کا ترجمہ مشہور مترجم مائیکل اسکاٹ نے 1217 ء میں طلیطلہ ( ٹو لیڈو) میں کیا۔پر کھلے (Berkley) امریکہ سے اس کا ایڈیشن 1952 ء میں شائع ہوا۔عبرانی میں اس کا ترجمہ ویانا سے 1531ء میں طبع ہوا تھا۔لاطینی میں کیلو مینس (Caluminus) نے اس کا ترجمہ کیا۔البطر و جی فلکی مشاہدات کرتے وقت انسانی حواس پر زیادہ اعتبار نہ کرتا تھا کیونکہ مشاہدہ کرنے والے اور فلکی کروں کے درمیان فاصلہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔کو پر ٹیکس کے دور تک یورپ کے سائنسدانوں پر اس کے سائنسی نظریات کا گہرا اثر تھا۔کو پر ٹیکس کو اس کے علمی خزانے سے کئی تصورات ملے، اس لئے اس نے البطر وجی کا ذکر اپنے علمی شاہکار ڈاریوولیوشنی بس (De Revolutionibus) میں کیا۔اس کی بے پناہ شہرت کے پیش نظر چاند کا ایک حصہ (Mare Nectaris) اس کے نام سے منسوب ہے۔کتاب فی الہیہ کا انگریزی ترجمہ بمع عربی متن برنارڈ گولڈ اسٹائن (Goldstein) نے Al-Bitruji: On Principles of Astronomy کے نام سے کیا جو امریکہ سے 1971 ء میں شائع ہوا تھا۔ابن البناء (1321ء) فیض (مراکش) کی یو نیورسٹی میں طلبا کو ریاضی کی تمام شاخوں حساب الجبرا ، جیومیٹری اور بیت کی تعلیم دیتا تھا۔بہیت پر اس نے جو کتاب لکھی اس میں اس نے سب سے پہلی بار المناخ (موسم ) کا لفظ استعمال کیا جس سے جنتری (almanac) کا لفظ ماخوذ ہے۔اس نے 82 کتابیں تصنیف کیں۔ریاضی میں اس کی قابل ذکر کتا بیں عمل الحساب، کتاب الاصول ( اقلیدس کا تعارف)، کتاب الاصول والمقدمات في الجبر والمقابله ، کشف الاسرار عن علم الحروف الغبار ، رفع الحجاب تلخيص عمل الحساب، شرح رفع الحجاب ( تلخیص کی شرح) اور مقالہ الا ربع ہیں۔تنبیہ الا باب علی مسائل الحساب 1978ء میں دریافت ہوئی تھی۔علم ہئیت پر کتاب الانواع اور منہاج الطالب فی تعدیل الکواکب (ستاروں کی گردش پر طالب علموں کے لیے ہنیڈ بک ) بھی اس کی ایک اہم کتاب ہے۔منہاج کا جزوی ترجمہ اسپینی زبان میں 1956ء میں پروفیسر جے ویرنیٹ ( Prof۔J۔Vernet) نے کیا تھا۔ملان میں آٹھویں انٹر نیشنل کانگریس آف ہسٹری آف سائنس ( V||| International Congress of History of Science) کے موقعے پر پروفیسر ویر نیٹ نے ابن البناء کے ہئیت پر موجود مخطوطات پر ایک مقالہ پڑھا تھا۔ابن البناء نے اصطرلاب پر ایک مقالہ لکھا تھا جس کا نام صفحہ شکر یہ تھا۔ابن زکریا الغرناطی (1406ء) نے اس کی تلخیص عمل الحساب کی شرح لکھی تھی۔اسلامی اسپین میں عظیم ریاضی داں ابوالحسن القالا صادی (1486ء) علم ریاضی اور الجبرا کا ماہر تسلیم کیا جاتا تھا۔اس کی کتابیں ایک عرصے تک شمالی افریقہ کے اسکولوں کے نصاب میں شامل تھیں۔وہ اندلس کا آخری ریاضی داں تھا۔” الارجوزہ الیا سامیبیا میں اس نے الجبرا کے اصول نظم میں بیان کیے۔مشہور ریاضی داں ابن البناء کی کتاب عمل الحساب کی تلخیص لکھی۔