چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کا سنگم

by Other Authors

Page 243 of 296

چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کا سنگم — Page 243

243 عکس حوالہ نمبر : 69 ۵۳۴ مسیح و مہدی کا شدت سے انتظار ریموں کا جاری کر لیتا ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خوشی کے موقعوں کے لئے دو چیزیں مقرر فرمائیں ہیں، ولیمہ کی دعوت اور عقیقہ، ان دونوں کو اختیار کرنا چاہئے اور ان کے علاوہ دوسری چیزوں کو ترک کرنا چاہئے یا ان کا زیادہ اہتمام نہ کرنا چاہئے ، ہم لوگوں کے ہاں ایک اور بری رسم یہ ہے کہ ماتم کے سلسلے میں سوئم ، جہلم، شش ماہی اور سالانہ فاتحہ پر بہت اسراف کرتے ہیں، ان سب رسموں کا عرب اولین میں بالکل وجود نہ تھا، صحیح بات یہ ہے کہ تین دن تک میت کے وارثوں کی تعزیت اور انھیں ایک دن ایک رات کھانا دینے کے علاوہ اور کوئی رسم نہ کی جائے ، میت ہو جانے کے تین دن بعد خاندان کی عورتیں جمع ہوں اور مرنے والے کے رشتہ دار عورتوں کو خوشبو لگائیں اور اگر اس کی بیوی ہے تو وہ عدت ختم ہو جانے کے بعد سوگ ختم کر دے۔ہم میں سے خوش قسمت وہ ہے جو عربی زبان کی صرف و نحو اور اس کی کتب ادب سے مناسبت پیدا کرے، حدیث اور قرآن میں سے اسے درک حاصل ہو ، فارسی و ہندی کتابوں ، علم شعر، معقولات ، اس سلسلے کی جو دوسری چیزیں پیدا ہوگئی ہیں، ان میں مشغول ہونا اور تاریخ ، بادشاہوں کی سرگزشتوں اور صحابہ کے باہمی نزاعات کا مطالعہ کرنا گم راہی در گم راہی ہے، اگر رسم زمانہ ان چیزوں میں مشغول ہونے کی مقتضی ہو تو یہ ضروری بات ہے کہ وہ اسے علم دنیوی سمجھیں، اس سے متنفر رہیں اور توبہ واستغفار اور اظہار ندامت کرتے رہیں، ہمارے لئے یہ لازمی ہے کہ حرمین محترمین جائیں اور ان کے آستان پر اپنی پیشانی رگڑیں، اس میں ہمارے لئے سعادت ہے اور اس سے پہلو تہی کرنے میں ہمارے لئے شقاوت ہے۔۔آٹھویں وصیت ، حدیث شریف میں آیا ہے۔" من ادرک منکم عیسی بن مریم فليقرأ منى السلام (۱) ( جو تم میں عیسی بن مریم کو پائے تو وہ میرا انھیں سلام دے ) اس فقیر کی یہ پوری آرزو ہے کہ اگر اسے حضرت روح اللہ علیہ السلام کا زمانہ ملے تو سب سے پہلے جو انھیں سلام کہے ، وہ میں ہوں، اگر میں وہ زمانہ نہ پاؤں تو اس فقیر کی اولاد یا متبعین میں سے جو بھی ان کے مبارک زمانے کو پائے ، وہ انھیں سلام پہنچانے کی پوری کوشش کرے تا کہ ہم محمدی تشکروں میں سے آخری شکر ہوں، پس سلام ہو، اس پر جو ہدایت کی اتباع کرے۔(1) اس حدیث کو الحاکم نے اپنی مستدرک میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔