چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کا سنگم — Page 210
پانچویں علامت وحشیوں کا اکٹھا ہونا 210 علامات مسیح و مہدی اور چودھویں صدی سورة التكویر سے قرب قیامت کی پانچویں نشانی یہ بیان فرمائی: وَإِذَا الْوُحُوشُ حُشِرَتْ (التكويیر 6) اور جب وحشی اکٹھے کئے جائیں گے۔الوحوش میں ”المعرفہ کے لئے ہے۔الف۔اس آیت میں پہلی خبر یہ دی گئی تھی کہ ظہور مسیح کے زمانے میں دنیا میں خاص جانوروں کو ایک جگہ جمع کیا جائے گا یعنی ان کے چڑیا گھر بنائے جائیں گے۔چودھویں صدی میں یہ پیشگوئی پوری ہو چکی ہے۔ب - وَإِذَا الوُحُوشُ حُشِرَت کا دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وحشی قوموں میں بھی تہذیب کا دور دورہ ہوگا اور علوم وفنون کی ترقی کے باعث رذیل اور حقیر سمجھی جانے والی قو میں بھی اپنے حقوق کے لیے اٹھ کھڑی ہوں گی جیسا کہ افریقہ میں کالونیل ازم کے خاتمہ کے بعد یہ پیشگوئی بھی چودھویں صدی میں پوری ہوئی۔ج - حشر کے ایک معنے جلاوطن ہونے کے بھی ہوتے ہیں۔اس لحاظ سے تیسرا پہلو اس نشان کا یہ تھا کہ وحشی قوموں کو ان کے ملکوں سے نکال دیا جائے گا جیسا کہ چودھویں صدی میں یہ پیشگوئی بھی پوری ہوئی اور امریکہ اور آسٹریلیا میں ایسا ہوا۔امریکہ میں سرخ فام یار یڈ انڈینز کے ساتھ ایسا نارواسلوک کیا گیا۔چنانچہ 1907 ء میں امریکہ کے علاقہ اوکلاہوما کے ریاست بننے کے بعد اس علاقے میں مقامی سرخ فاموں سے نہ صرف مزید زمین چھینی گئی بلکہ بہت سے دوسرے علاقوں کے باشندوں کو جبری ہجرت پر مجبور کر کے ریاست کے ایک چھوٹے سے رقبے میں ہانک دیا گیا۔اس کے نتیجے میں امریکہ کے اصلی، پہلے اور مقامی باشندوں اور قبائل کو چھوٹے چھوٹے رقبوں تک محدود کر دیا گیا۔ان جگہوں کو رمیز رویشن کہا جاتا ہے۔یہ نظام آج بھی موجود ہے۔د۔چوتھے ممکنہ معنے اس آیت کے یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ انسانوں میں بھیس بدل کر جانوروں کی شکل بنانے کا رواج ہوگا۔یہ نشانی بھی ہمارے زمانہ میں پوری ہورہی ہے۔چنانچہ عاشوراء محرم میں لوگ انسان ہوکر شیر، چیتا، ریچھ وغیرہ کا سوانگ لیتے اور روپ دھارتے ہیں۔گویا عملاً انسانیت سے مسخ ہوکر