چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کا سنگم

by Other Authors

Page 188 of 296

چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کا سنگم — Page 188

188 زمانہ مہدی کی الہامی شہادات مجدد چودھویں صدی کے متعلق حضرت پیر صاحب آف کوٹھہ شریف کی گواہی: حضرت سید امیر صاحب المعروف حضرت جی صاحب صوبہ سرحد کے مقام کوٹھہ شریف (صوابی) میں مشہور پیر صاحب الہام گزرے ہیں۔حضرت اخوندسوات صاحب کے بیان کے مطابق موصوف کا دعویٰ الہام حضرت جبرائیل سے ہمکلام ہونے کے علاوہ یہ بھی تھا کہ سورۃ فتح کی ایک آیت بھی ان پر نازل ہوئی۔نیز ان کا یہ بھی مسلک تھا:۔نبوت ختم نہیں ہوئی، اگر رسول اکرم کے بعد کوئی دعوی پیغمبری کا کرے تو جائز ہے۔“ ( تذکرہ صوفیائے سرحد صفحہ 569-570 مصنفہ اعجاز الحق قدوسی) حضرت پیر کوٹھہ صاحب کے خلیفہ خاص مولانا حمید اللہ حمید سوات بیان کرتے ہیں کہ:۔ایک روز ہمارے مرشد حضرت کوٹھہ صاحب والے فرمانے لگے کہ مہدی پیدا ہو گیا ہے لیکن ابھی ظاہر نہیں ہوا۔اس بات کو سن کر مولوی محمد یکی اخونزادہ اس بات پر مصر ہوئے کہ اس بیان کو خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر تحریر کریں پس میں بحکم آیت لا تكتموا الشھادۃ۔۔۔خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر لکھتا ہوں کہ حضرت صاحب کوٹھہ ایک دو سال اپنی وفات سے پہلے یعنی 1292ھ یا 1293ھ میں چند خواص میں بیٹھے ہوئے تھے اور ہر ایک باب سے معارف اور اسرار میں گفتگو شروع تھی۔ناگاہ مهدی (مجدد) کا تذکرہ درمیان میں آ گیا۔فرمانے لگے کہ مہدی (مجدد) پیدا ہو گیا ہے ان کے منہ سے یہ الفاظ افغانی زبان میں نکلے تھے: ”چہ مہدی پیدا شوے دے اور وقت ظہور نہ دے، یعنی مہدی پیدا ہو گیا ہے لیکن ابھی ظاہر نہیں ہوا۔بعد اس کے حضرت نے ذی الحجہ 1294ھ میں وفات پائی۔“ ملاحظہ ہو عکس حوالہ نمبر 61: سوانح حیات سلطان اولیاء حضرت سید امیر صاحب المعروف حضرت جی کوٹھہ صفحہ 291 از الحاج صاحبزادہ محمد اشرف زیر اہتمام صاحبزادہ فاؤنڈیشن کو ٹھہ ضلع صوابی مردان