چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کا سنگم — Page 151
151 عکس حوالہ نمبر : 46 ۵۱۰ زمانہ مہدی کی الہامی شہادات ۲۲۷- تفهیم مجددیت میرے دورہ حکمت ختم ہونے پر اللہ سبحانہ نے مجھے خلعت مجددیہ پہنائی، پھر میں نے خلعت حقانیہ پہنی اور مجھے سے تمام علم فطری و فکری سلب کر لیے گئے۔میں حیران و ششدر رہ گیا کہ مجھے مجددیت کس طرح دی گئی۔پھر میرے رب جل جلالہ نے طریق خاص کی وضاحت کی۔اس کے ذریعہ بغیر نظر فکری کے امیت اور مجددیت کے درمیان جمع کرتا ہے اور میں اب تک مجددیت کی تفصیل نہیں پاسکا۔البتہ اس کا اجمال مجھے عطا کر دیا گیا اور میں مختلف امور کے درمیان جمع کا طریقہ جان گیا۔اور میں یہ بھی جان گیا کہ شریعت میں رائے زنی کرنا تحریف اور قضا میں قابل قدر ہے۔۲۲۸- تفهیم قرب قیامت کا ذکر مجھے میرے رب جل جلالہ نے بتایا کہ قیامت قریب آگئی ہے۔اور مہدی خروج کے لیے تیار ہیں۔اور طریقہ متاثرہ کے حامل کے بعد کمال کا نمو منقطع ہو گیا ہے۔اور ممکن ہے کہ یہ وہی سب سے زیادہ طویل زندگیوں کی پرواہ نہ کرے۔سبحان اللہ کمال کے امر کے لحاظ سے کیسے فتنے نازل ہوئے ہیں کہ اس میں ان انوار کا عکس نظر آتا ہے جو وحی کے حامل ہیں۔انا لله وإنا إليه راجعون۔۲۲۹- تفهيم: عوام اور انبیاء کے درمیان فرق کا میداً کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ دل و دماغ میں پھونکتے اور کشف جیسے امور میں عوام انبیاء کے ساتھ شریک ہوتے ہیں۔خاص طور سے تکوینی امور میں۔اور انبیاء ان کے درمیان کچھ امور میں مختص ہوتے ہیں۔جیسے ان کی طرف فرشتے کا بھیجنا اور ان کا اس کو دیکھنا۔لیکن ہمارے نزدیک معاملہ ایسا نہیں ہے۔بلکہ عوام علم کے اخذ کرنے میں ان کے ساتھ بالکل بھی شریک نہیں ہوتے کہ ان کا وحی کو اخذ کرنا صرف اس لیے ہے کہ وہ اس پانی کی مانند ہے جس