چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کا سنگم — Page 101
101 چاند وسورج گرہن مقدمه این خواردن رح عکس حوالہ نمبر: 28 کتا چہ یا ظاہری کہ بنی عبد المطاب میں سے ہو یا پامانی کے خواص آقت سے کوئی ہو۔ابن العربی الحاتمی نے اپنی کتاب انتشار مغرب میں حضرت ہی کو نام ارامیا کے نام سے یاد کیا ہے۔اور ابن الفات چاندی کی اینٹ سے بھی تعمیر کیا ہے۔یہ دراصل اس حدیث کی طرف اشارہ ہے تین کو امام بخاری باب خاتم الیلیین میں لائے ہیں۔بدین مضمون کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ سلم فرماتے ہیںکہ میری مثال اتے انبیا میں ایسی ہے کہ مثلا ایک شخص نے کہیں مکان نهایت مکمل بنوا یا اگر ایک ایسٹ کی جگہ اس میں چھوڑ ہیں۔لہذا میں وہ اینٹ میں نہیں سے پورے مکان کی صحیح تکمیل ہوئی۔اسی لئے مسرت خاتم النبیین کو " گفتہ " کہا جاتا ہے کہ آپ نے ہنساء نبوت کی کڑیاں پوری کر دیں۔اور اس تحمیلی میلونگ پہنچایا۔یہ آپ کو معلوم ہیں میں چکا کہ ترسو درجات میں وایت کو نبوت کی جگہ قرار دیا گیا ہے تو جن بزرگ - ولایت ختم ہو جائے ، ان پر اس کی تکمیل ہوا ان کے خاتم الاولیاء کہہ سکتے میں ہے۔طرح آنحضرت کو خاتم الانبیاء کہا گیا۔آپ نے نبوت کی تکمیل فرمانی اور آپ کی ذات پر وہ ختم ہوئی اور تیس طرح آنجناب کو حدیث مذکور میں بطور نشیل بہت بیت امکان کی اینٹ کہا گیا ہے اسی طرح خاتم الاولیا کو بھی جب کہ سکتے ہیں۔مگر اس میں بھی درجہ نبوت اور درجہ ولایت میں جو فرق ہے وہ مینا ر ہے گا۔اسی لئے انہوں نے آنحضرت کی ثبت الہب کیا اور حضرت ام حیدری کو بیت الفت کیونکر سونے اور چاند ہی میں بھی بڑھیا گھٹیا اور کم و بیش رتبہ کا فرق ہے۔ابن الى واصل نے ابن العربی سے نقل کیا ہے کہ امام منتظر باب بیت میں سے ہوں گے اور حضرت فاطمہ رند کی اور ادویہ سے ایران کا ظہور ، ت ج حجر می گذرنے پر ہو گا۔گویا ان ترون سے مراد ان کے علا: بحساب ابجد لئے ہیں۔خ کے تھ سورت کے اتنی اور ج کے تین ہوتے ہیں۔اور ان کا موفہ کو سو تراس ہوتا ہے۔لینی ساتویں صدی کے آخر میں ظہور کہ میں گے۔لیکن تب یہ عادت گذرگئی اور امام منتر کا شہر نہیں ہوا تو بہت سٹے پائے اور عقیدتمند لگے کہنے کو امان مدت سے ظہور مراد نہیں بلکہ ان کی پیدائش مرا ر ہے۔اور پیدائش کو ظہور سے تجھے کہ دیا ہے۔در اصل ان کا ظہور نت میکنی بعد کہیں ہو گا۔مغرب کے اطراف سے نکلیں گے جو یا ابن العرو کے حساب سے جب ان کی پیدائش شستہ کی مانی تو طیبہ کام وقت یعنی منہ میں ان کی ، تیم بیس برس کی ہو گی۔یہ یہ بی عقیدہ رکھتے ہیں کہ یہ م محمدی سے شمار کر کے مسلمہ میں وجبال نکلے گا اور کرم محمدی کی ابتدا۔ان کے نزدیک آنحضرت کی وفات سے ایک ہزار برس تک ہے۔ابن ابی واصل کتاب قلع النعلین کی شرح میں رقم طراز ہے کہ امام منتظر قائم بامراللہ جن کو محد المہدی خاتم الا و نیاء سے یاد کیا جاتا ہے ، نہیں نہیں چنیں گے بلکہ والی ہوں گے۔اللہ تعالٰی کی روح اور اس کے جبیب ہوں گے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے کہ عالم اپنی قوم میں ایسا ہے جیسے کہ نبی اپنی امت میں۔اور یہ بھی ارشاد فرمایا کہ میری امت کے علماء بنی اسرائیل کے انبیاء کے مانند ہیں۔اور یہ خوشخبری اول یوم محمد تھا سے پانچ برس یعنی دو پہر تک بر ایر پلی آئی۔دو پہر گزرنے کے بعد مشاری کی خوشی وقت کے تقیہ مہینے آنے سے بڑھتی گئی۔کہندی کا بیان ہے کہ یہ امام اوگوں کو ظہر کی ناز پڑھائیں گے۔اسلام کو زندہ کریں گے۔عدل وانصاف پھیلائیں گے۔جزیرہ اندلس کو فتح کرتے ہوئے روم تیک نکل جائیں گے اور اس کو بھی زیرا اقتدار لائیں گے۔پھر مشرق کیا کرو کریں گے اور اس کو اپنے زیر نہیں لائیں گے قسطنطنیہ کو فتح کرلیں گے۔غرض تمام ملک ان کی قلمرو میں آجائیں گے مسلمانی قوت پکڑ لیں گے۔اور اسلام کا بول بالا ہوگا۔دین حنیف کے گا اس کی پاکیزگی ظاہر ہوگی۔یہ کہ ظہر سے عصر تک نماز ہی کا وقت ہے۔آنحضرت نے فرمایا ہے کہ ان دونوں کے درمیان کا وقت بھی نمازہ ہی ہے۔