حضرت سیدہ صالحہ بیگم صاحبہؓ — Page 20
20 20 جماعت ہر کام پہلے سے بڑھ چڑھ کر کر رہی تھی اب ضرورت محسوس کی جارہی تھی کہ لجنہ اماءاللہ کے دفتر کی ایک اچھی سی عمارت ہو جس میں بیٹھ کر کاموں کو باقاعدہ ترتیب کے ساتھ کیا جاسکے۔ریکارڈ رکھا جا سکے اور عورتوں کے لئے ایک مرکزی دفتر ہو جہاں ساری دنیا سے آکر خواتین ہدایات اور راہنمائی حاصل کر سکیں۔چنانچہ 25 مئی 1950ء کو صبح ساڑھے چھ بجے حضرت مصلح موعود نے لجنہ اماء اللہ کی عمارت کا سنگ بنیاد رکھا حضور نے دعاؤں کے ساتھ تین اینٹیں اپنے دست مبارک سے لگائیں۔پھر حضور کے ارشاد پر مختلف ملکوں اور مختلف قوموں کے ان نو مبائع افراد نے جو وہاں موجود تھے اینٹیں رکھیں۔اجتماعی دعا ہوئی دوسرے دن لجنہ اماء اللہ کی ممبرات کا اجتماع ہوا۔سب سے پہلے حضرت سیدہ نصرت جہاں بیگم صاحبہ نوراللہ مرقدها پھر حضرت ام ناصر اہلیہ حضرت خلیفہ المسیح الثانی صدر لجنہ اماء اللہ اور پھر حضرت سیّدہ ام داؤ د صاحبہ نائب صدر نے اینٹیں لگائیں۔(4) 1951 ء میں حضرت مصلح موعود کی تحریک پر ربوہ کے ارد گرد عورتوں کو تبلیغ کیلئے بھجوایا۔حضرت سیدہ ام داؤد صاحبہ نے باجود کمزوری صحت کے چھنیاں، کھچیاں اور چمن عباس جانے والے وفود کی قیادت کی۔جوانی میں ہی آپ کو گلے کی بیماری ہو گئی تھی۔اس وجہ سے طبیعت اکثر کمتر در رہتی تھی۔لیکن آپ نے کبھی اپنی بیماری کو کام نہ کرنے کا بہانہ نہیں بنایا۔