سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 784 of 900

سیر روحانی — Page 784

۷۸۴ ہو گئے تھے وہ غلط کہتے ہیں بلکہ در حقیقت ایسا الزام لگانے والے خود کا فر ہیں کیونکہ وہ خدا تعالیٰ کے نبی پر اتنا بڑا اتہام لگاتے ہیں۔پس قرآن کریم نے حضرت سلیمان علیہ السلام کی صحیح تاریخ بیان کر دی ہے حالانکہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دادا نہیں تھے بلکہ حضرت داؤد کے بیٹے ہونے کی وجہ سے حضرت مسیح علیہ السلام کے دادا تھے۔یا بائبل میں اُنکا صحیفہ شامل ہونے کی وجہ سے وہ بنی اسرائیل کے بزرگ تھے اور وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد آئے تھے لیکن قرآن کریم اُن کی عزت کی حفاظت کرتا ہے اور خود اُن کے اپنے پوتے پڑپوتے انہیں خدا تعالیٰ سے برگشتہ اور بُت پرست قرار دیتے ہیں۔حضرت ہارون علیہ السلام پر بائبل کے الزامات پھر قرآن کریم نے حضرت ہارون علیہ السلام کی عزت کی بھی حفاظت کی۔بائبل میں لکھا ہے کہ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام طور پہاڑ پر تشریف لے گئے اور اُن کے بعد اُن کی قوم نے بچھڑا بنا لیا تو حضرت ہارون علیہ السلام بھی اُن کے اِس فعل میں اُن کے ساتھ شریک ہو گئے تھے چنانچہ لکھا ہے :- اور جب لوگوں نے دیکھا کہ موسیٰ نے پہاڑ سے اترنے میں دیر لگائی تو وہ ہارون کے پاس جمع ہو کر اُس سے کہنے لگے کہ اُٹھ ہمارے لئے دیوتا بنا دے جو ہمارے آگے آگے چلے کیونکہ ہم نہیں جانتے کہ اس مردِ موسیٰ کو جو ہم کو ملک مصر سے نکال کر لایا، کیا ہو گیا۔ہارون نے اُن سے کہا۔تمہاری بیویوں اور لڑکوں اور لڑکیوں کے کانوں میں جو سونے کی بالیاں ہیں اُن کو اُتار کر میرے پاس لے آؤ۔چنا نچہ سب لوگ اُن کے کانوں سے سونے کی بالیاں اُتارا تار کر اُن کو ہارون کے پاس لے آئے اور اُس نے اُن کو ان کے ہاتھوں سے لے کر ایک ڈھالا ہوا بچھڑا بنایا جس کی صورت چھینی سے ٹھیک کی۔تب وہ کہنے لگے۔اے اسرائیل! یہی تیرا وہ دیوتا ہے جو تجھ کو ملک مصر سے نکال کر لایا۔۴۳ غرض بائبل کہتی ہے کہ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کو پہاڑ سے آنے میں دیر ہو گئی تو اُنکی قوم حضرت ہارون کے پاس گئی اور کہا کہ موسی ہمیں خدا کی باتیں سنا یا کرتا تھا لیکن پتہ نہیں وہ کہاں چلا گیا ہے اب ہم خدا کے بغیر رہ گئے ہیں۔تو اُٹھ اور ہمارے لئے خدا بنا جو