سیر روحانی — Page 770
نے کبھی بچہ دیا ہو۔اسی طرح ریل ہے یہ انسان کی ایجاد ہے مگر کسی نے نہیں سُنا ہو گا کہ ریل نے بچہ دیا ہے اور اب ایک کی بجائے دس ریلیں بن گئی ہیں مگر خدا تعالیٰ کی پیدائش دیکھ لو وہ ہوتی چلی جاتی ہے۔اُس نے صرف ایک آدم پیدا کیا تھا مگر اب اربوں آدمی موجود ہیں گویا اُس کی نسل پیدا ہوتی چلی جاتی ہے۔اسی طرح ایک مسیح اس نے پیدا کیا مگر اب اور مسیح پیدا ہوتے چلے جاتے ہیں اور قیامت تک ہوتے چلے جائیں گے۔اسی طرح ایک ابراہیم اس نے پیدا کیا تھا مگر اس کے بعد ابراہیم پر ابراہیم پیدا ہوتے چلے گئے اسی لئے قرآن شریف میں کو اللہ تعالیٰ کا ایک نام فَاطِر “ بھی آتا ہے۔فاطر کے معنے فاطر کے معنے ہیں بغیر نمونہ کے پیدا کرنے والا۔چنانچہ حضرت ابنِ عباس سے روایت ہے کہ كُنْتُ لَا اَدْرِى مَا فَاطِرُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ 66 حَتَّى أَتَانِي أَعْرَابِيَّانِ يَخْتَصِمَانِ فِى بِشُرٍ فَقَالَ اَحَدُهُمَا أَنَا فَطَرُ تُهَا أَى ابْتَدَأَتُهَا یعنی میں قرآن کریم میں فاطر کا لفظ پڑھا کرتا تھا لیکن مجھے پتہ نہیں چلتا تھا کہ فاطر کیا ہوتا ہے یعنی جب خالق کہہ دیا تو پھر فاطر کیا ہوا۔یہاں تک کہ ایک دن میرے پاس دو اعرابی آئے جو ایک کنویں کے بارے میں جھگڑ رہے تھے۔ایک کہہ رہا تھا میرا کنواں ہے اور دوسرا کہہ رہا تھا یہ میرا کنواں ہے۔اُن میں سے ایک نے کہا میں نے اسے فطر کیا تھا۔اور اس سے مراد یہ تھی کہ میں نے اسے پہلے کھودا تھا بعد میں اس نے قبضہ کر لیا۔اُس دن مجھے فاطر کے حقیقی معنوں کا علم ہوا۔اور میں سمجھ گیا کہ فاطر اس کو کہتے ہیں جو نئے سرے سے ایجاد کرے اور بغیر نمونہ کے ایجاد کرے۔اور اعرابی کا یہ کہنا کہ آنَا فَطَرْتُهَا “ اس کے معنے یہ تھے کہ پہلے اس علاقہ میں کوئی کنواں نہیں تھا۔پہلے پہل میں نے ہی کنواں کھودا تھا۔حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ اس اعرابی کے استعمال کی وجہ سے مجھے ” فاطر “ کے معنے سمجھ آئے اور مجھے معلوم ہو ا کہ اس کے معنے ابتداء کرنے کے ہیں پس كُنْ فَيَكُونُ “ سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ جن چیزوں کو پیدا کرتا ہے اُن میں تناسل کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے اور اس قسم کی اور چیزیں پیدا ہوتی چلی جاتی ہیں اور وہ ختم نہیں ہو جاتیں۔مثلاً اُس نے سورج اور چاند پیدا کئے ہیں اور اب نئے نئے سورج اور چاند پیدا ہو رہے ہیں جیسا کہ علم ہیئت سے ثابت ہے۔اُس نے صرف ایک پہاڑ اور صرف ایک دریا ہی پیدا نہیں کیا بلکہ اُس کے بنائے ہوئے پہاڑوں اور دریاؤں سے نئے نئے پہاڑ اور دریا نکلتے جا رہے ہیں۔اُس نے صرف ایک