سیر روحانی — Page 752
۷۵۲ ނ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وقت میں جب پرانے صحابی آیا کرتے تھے تو لنگر سے روٹیاں لے جاتے تھے اور کہتے تھے کہ ان میں بڑی برکت ہے ہم تو سارا سال کوئی بیماری ہو اپنے بچوں اور بیویوں کو یہی روٹیاں پانی میں گھول کر پلا دیتے ہیں اور وہ بیماریاں دُور ہو جاتی ہیں۔اگر احمدی اپنے ایمان پر قائم رہے تو یہ لنگر بھی ہمیشہ قائم رہے گا اور کبھی نہیں مٹے گا کیونکہ اس کی بنیاد خدا کے مسیح موعود نے قائم کی ہے جس کو خدا تعالیٰ نے یہ خبر دی ہے کہ تین سو سال کے اندر تیری جماعت ساری دنیا پر غالب آجائیگی اور تین سو سال میں یہ لنگر ربوہ میں نہیں رہے گا بلکہ تین سو سال کے بعد ایک لنگر امریکہ میں بھی ہوگا ، ایک انڈیا میں بھی ہوگا ، ایک جرمنی میں بھی ہوگا ، ایک روس میں بھی ہوگا ، ایک چین میں بھی ہوگا ، ایک انڈونیشیا میں بھی ہوگا ، ایک سیلون میں بھی ہوگا ، ایک برما میں بھی ہو گا ، ایک شام میں بھی ہوگا ، ایک لبنان میں بھی ہو گا ، ایک ہالینڈ میں بھی ہو گا ، غرض دنیا کے ہر بڑے ملک میں یہ لنگر ہوگا۔قرآنی لنگر کی ایک اور مثال محمد رسول اللہ کی برکت سے عربوں اور سیدوں کا اعزاز پاکستانیوں اور ہندوستانیوں کے سامنے ہر سال آتی رہتی ہے اور وہ اس طرح کہ عرب جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وطن تھا وہاں سے سینکڑوں لوگ پاکستان یا ہندوستان آئے ہیں اور مسلمان صرف اُنکے عرب ہونے کی وجہ سے اُن کی خوب خاطرمیں کرتے اور کھانے کھلاتے ہیں۔یہ بھی محمد می لنگر ہے جو آج تک آپ کی قوم کے لئے جاری چلا آ رہا ہے اور سارا سال گھلا رہتا ہے۔بیشک یہ لنگر لوگوں کے گھروں میں کھلتا ہے مگر کھلتا محمد رسول اللہ کی وجہ سے ہے۔آخر عربوں کو جو لوگ عزت دیتے ہیں کیوں دیتے ہیں؟ ہمیں تو یاد ہے کہ پرانے زمانہ میں عرب اور سید یہ دونوں اپنے عرب او رسید ہونے پر بڑا فخر کیا کرتے تھے۔مجھے یاد ہے ایک دن حضرت اماں جان چار پائی پر بیٹھی تھیں کہ ایک سیدانی مانگنے کو آ گئی کہنے لگی میں سیدانی ہوں میری مدد کر و۔پھر کہنے لگی مجھے پیاس لگی ہے کسی کو کہو کہ مجھے پانی پلا دے۔آپ نے کسی خادمہ کو کہا کہ اسے پانی پلا دو اُس نے کٹورہ لیا اور کھنگال کے پانی بھر کے دے دیا۔وہ بڑے غصہ سے کٹورہ پھینک کر کہنے لگی۔تینوں نہیں پتہ میں سیدانی ہوں۔سیدانی نوں امتی دے کٹورے وچہ پانی پلانی ایں۔خیر اس نوکرانی نے ہنس کر کہا کہ۔ا یہ امتی نہیں ایہہ بھی سیدانی ہیں۔اب یہ سید کی عزت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر ہی تھی ورنہ انہیں کون پوچھتا تھا۔یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نگر تھا کہ جس نے آپ سے تعلق 66