سیر روحانی — Page 662
۶۶۲ انہوں نے فوراً کہنا کہ حضور ! کس طرح تشریف لائے ہیں؟ وہ کہتے حضور حضور کچھ نہیں میں معافی مانگنے آیا ہوں۔میں نے تم لوگوں پر بڑے ظلم کئے ہیں مجھے خدا کے لئے معاف کر دو۔پہلے تو لوگوں نے یہ سمجھنا شروع کیا کہ مذاق ہو رہا ہے۔چنانچہ انہوں نے کہنا نہیں صاحب! آپ تو ہمارے بڑے آدمی ہیں۔وہ کہتے بڑے کوئی نہیں میں نے استعفیٰ دے دیا ہے اب میں معافی مانگنے آیا ہوں کیونکہ میری نجات تمہاری معافی کے بغیر نہیں ہوسکتی۔بڑے اصرار کے بعد آخر لوگوں کو یقین آ جانا کہ یہ بات ٹھیک ہے اور انہوں نے کہہ دینا اچھا ہم نے معاف کر دیا۔لیکن انسانی دل کو خدا تعالیٰ نے ایسا بنایا ہے کہ جب اس کو یہ پتہ لگ جاتا ہے کہ اب نیکی آچکی ہے تو پھر وہ برداشت نہیں کر سکتا۔ابھی پانچ سات گھر ہی شبلی گزرے تھے کہ شہر میں خبر مشہور ہوگئی کہ گورنر آج اس طرح پھر رہا ہے۔اب بجائے اس کے کہ شبلی جا کے دستک دیتے ادھر وہ گھر پر پہنچتے اور اُدھر گھر والے روتے ہوئے باہر آجاتے اور کہتے ہمیں آپ شرمندہ نہ کریں ہم نے معاف کیا اور ہم نے اپنے دل سے بات بالکل نکال دی۔شام تک سارے شہر میں معافیاں ہو گئیں اور بجائے اس کے کہ وہ مجرم کے طور پر جاتے اُن کا اعزاز ہونا شروع ہو گیا۔اس کے بعد واپس گئے حضرت جنید نے اُن کی بیعت لی اُن کی توبہ قبول کی اور پھر وہ خود بھی ایک بڑے بزرگ بن گئے۔" تو دیکھو خلعت ہوتے ہیں لیکن دنیوی خلعتوں اور جاگیروں کی نا پائیداری دنیوی بادشاہوں کے خلعت کبھی آپ ہی چھن جاتے ہیں اور کبھی یہ ہوتا ہے کہ اولادوں سے چھن جاتے ہیں۔مثلاً پٹھانوں کے وقت کی جاگیریں مغلوں نے چھین لیں۔مغلوں کے وقت کی جاگیریں جن کے پاس تھیں اُس وقت وہ بڑے اکڑ اکڑ کر پھرتے تھے مگر انگریز آئے تو انگریزوں نے چھین لیں۔پھر انگریزوں نے جاگیریں دیں تو اب پاکستان اور ہندوستان والے چھین رہے ہیں۔تو کچھ مدت کے لئے وہ انعام رہتے ہیں اور اس کے بعد وہ جاگیر چھن جاتی ہے۔مگر یہ وہ حکومت تھی اور یہ وہ دفتر تھے کہ میں نے دیکھا کہ اس میں جو جاگیریں ملتی تھیں اُن کے ساتھ بتا دیا جاتا تھا کہ یہ کتنے عرصہ کے لئے جاگیر ہے، کسی کو کہا جاتا تھا کہ یہ ہمیشہ کے لئے ہے پر یہ یہ وقفے پڑ جائیں گے، کسی کو کہا جاتا تھا کہ عارضی ہے جب تک ٹھیک رہو گے ملے گی۔گویا یہ خدمت کی جاگیر ہے جب تک خدمت کرو گے ملے گی جب خدمت نہ کرو گے چھین لی جائے گی۔