سیر روحانی — Page 607
۶۰۷ وہ کہتے ہیں میری اُنگلی ابھی نیچے نہیں ہوئی تھی کہ وہ لڑ کے باز کی طرح گودے اور صفوں کو چیرتے ہوئے اُس تک جا پہنچے۔جاتے ہی ایک پر ابو جہل کے بیٹے عکرمہ نے وار کیا اور اُس کا ہاتھ کاٹ دیا لیکن اُس کا دوسرا ساتھی پہنچ گیا۔جس کا ہاتھ کا نا گیا تھا اُس نے جلدی سے اپنے کٹے ہوئے ہاتھ پر پاؤں رکھا اور زور سے جھٹک کر اُسے جسم سے الگ کر دیا اور پھر دوسرے کے ساتھ شریک ہو کر ابو جہل پر حملہ کر دیا۔نتیجہ یہ ہوا کہ انہوں نے ابو جہل کو زخمی کر کے گرا دیا۔غرض لڑائی ابھی شروع بھی نہیں ہوئی تھی کہ انہوں نے ابو جہل کو جا کر ختم کر دیا۔یہ تھا مسلمانوں کا جوش کہ چھوٹے بچے بھی جانتے تھے اور وہ اپنے سے تین گنا لشکر کی صفوں میں گھس جاتے تھے اور اپنی جانوں کی ذرا بھی پرواہ نہیں کرتے تھے اور منٹوں میں لڑائی ختم ہو جاتی تھی۔یہ عجیب بات ہے کہ صحابہ نے جتنی جنگیں کی ہیں وہ صرف چند گھنٹوں میں ہی ختم ہو گئیں۔بدر چند گھنٹوں میں ختم ہو گئی ، اُحد چند گھنٹوں میں ختم ہو گئی اور حسنین چند گھنٹوں میں ختم ہو گئی ، مکہ کی لڑائی چند گھنٹوں میں ختم ہو گئی۔غرض ایک دو گھنٹہ کے اندر دشمن بھاگ جا تا تھا۔سوائے تین لڑائیوں کے اور وہ تینوں قلعہ بند لڑائیاں تھیں۔مثلاً احزاب کی لڑائی تھی اس میں صرف دفاع کا حکم تھا اور بیچ میں خندق بنائی ہوئی تھی اس میں دیر لگی یا بنوقریظہ کا محاصرہ ہوا تو قلعہ میں تھے اور قلعہ توڑنے میں دیر لگی یا خیبر پر جب حملہ ہوا تو اُس میں دیر لگی۔کیونکہ خیبر میں بھی وہ قلعہ میں تھے لیکن ان کے علاوہ جب بھی کوئی لڑائی ہوئی چند گھنٹوں کے اندر ختم ہو گئی اور چند گھنٹوں میں دشمن تباہ ہو گیا۔غرض ان آیات میں بتایا گیا ہے کہ دُنیا میں جوش دلانے کے لئے جو تدابیر اختیار کی جاتی ہیں کبھی شراب پلائی جاتی ہے، کبھی لوٹ مار کی اجازت دی جاتی ہے، کبھی شبخون مارنے کا مشورہ دیا جاتا ہے ان سب کو منع کرنے کے باوجود اسلامی جنگ کے لئے جب نوبت بجے گی تو اسلام کے سپاہی دیوانہ وار آگے بڑھیں گے اور گھنٹوں میں دشمن کی صفوں کو توڑ دیں گے اور قطعی طور پر اُن کو موت کا کوئی خوف نہیں ہوگا۔دنیوی نوبت خانوں کی تیسری غرض تیرتی غرض نوبت خانہ کی یہ ہوا کرتی ہے کہ خوشی کی تقریبات کے موقع پر مثلاً بادشاہ دربار کرے یا اُس کا جلوس نکلے تو نوبتیں بجا کرتی تھیں اور اسی طرح بادشاہ کی آمد یا کسی بڑی تقریب کی خبر لوگوں کو دی جاتی اور بادشاہی اعلان سے لوگوں کو واقف کیا جاتا تھا۔