سیر روحانی — Page 419
۴۱۹ نے مجبوراً اس خلعت سے ناک پونچھ لیا آپ اس پر اتنا خفا ہوئے۔پھر میں کیا جواب دوں گا اُس خدا کے سامنے جس نے مجھے یہ جسم ایسا دیا ہے جس کو کوئی بادشاہ بھی نہیں بنا سکتا ، جس نے مجھے یہ خلعت دی ہے اور میں اس کو تیری خاطر گندہ کر رہا ہوں میں اس کے متعلق اپنے خدا کو کیا جواب دونگا ؟ یہ کہہ کر وہ دربار سے نکل گئے مگر وہ اتنے ظالم اور جابر تھے کہ جب مسجد میں گئے اور انہوں نے کہا کہ میں تو بہ کرنا چاہتا ہوں تو ہر ایک نے یہی کہا کہ کم بخت ! کیا شیطانوں کی تو یہ بھی کہیں قبول ہو سکتی ہے نکل جا یہاں سے۔توبہ کی قبولیت انہوں نے ہر جگہ پھرنا شروع کیا مگرکسی کو یہ جرأت نہیں ہوتی تھی کہ ان کی تو به قبول کرے۔آخر وہ جنید بغدادی کے پاس پہنچے کہ اس اِس طرح مجھے سے قصور ہوئے ہیں اور اب میں تو بہ کرنا چاہتا ہوں کیا میری توبہ قبول ہو سکتی ہے؟ انہوں نے کہا ہاں قبول ہو سکتی ہے مگر ایک شرط پر۔پہلے اسے مانو۔شبلی نے کہا مجھے وہ شرط بتا ئیں میں ہر شرط ماننے کے لئے تیار ہوں۔انہوں نے کہا اُس شہر میں جاؤ جہاں تم گورنر رہے ہو اور ہر گھر پر دستک دے کر کہو کہ میں تم سے معافی مانگتا ہوں اور جو جو ظلم تم نے کئے تھے ان کی لوگوں سے معافی لو۔انہوں نے کہا منظور ہے چنانچہ وہ گئے اور انہوں نے ہر دروازہ پر دستک دینی شروع کر دی جب لوگ نکلتے وہ کہتے کہ میں شبلی ہوں جو یہاں کا گورنر تھا میں قصور کرتا رہا ہوں، خطائیں کرتا رہا ہوں اور تم لوگوں پر ظلم کرتا رہا ہوں اب میں اس کی معافی طلب کرتا ہوں۔لوگ کہہ دیتے کہ اچھا ہم نے معاف کر دیا لیکن نیکی کا بیج ہمیشہ بڑھتا اور رنگ لاتا ہے دس ہیں گھروں سے گزرے تو سارے شہر میں آگ کی طرح یہ بات پھیل گئی کہ وہ گورنر جو کل تک اتنا ہی ظالم مشہور تھا وہ آج ہر دروازہ پر جا جا کر معافیاں مانگ رہا ہے اور لوگوں کے دلوں میں روحانیت کا چشمہ پھوٹا اور انہوں نے کہا ہمارا خدا کتنا زبردست ہے کہ ایسے ایسے ظالموں کو بھی نیکی اور توبہ کی توفیق عطا فرما دیتا ہے۔چنانچہ پھر تو یہ ہوا کہ شبلی جنیڈ کے کہنے کے ماتحت ننگے پاؤں ہر دروازہ پر جا کر دستک دیتے تھے لیکن بجائے اس کے کہ دروازہ کھل کر شکوہ اور شکایت کا دروازہ گھلتا اندر سے روتے ہوئے لوگ نکلتے اور کہتے تھے کہ آپ ہمیں شرمندہ نہ کریں آپ تو ہمارے لئے قابل قدر وجود ہیں اور ہمارے روحانی بزرگ ہیں آپ ہمیں اس طرح شرمندہ نہ کریں۔غرض سارے شہر سے انہوں نے معافی لی اور پھر وہ جنید کے پاس آئے اور انہوں نے تو بہ قبول کی اور انہیں اپنے شاگردوں میں شامل کیا اور اب وہ