سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 277 of 900

سیر روحانی — Page 277

۲۷۷ الله بِسْمِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الكَرِيمِ (۴) ( تقریر فرموده مورخه ۲۸ مارچ ۱۹۴۸ء بمقام لاہور ) عالم روحانی کا بلند ترین مینار یا مقام محمدیت تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا :- 66 میری آج کی تقریر کا موضوع ” ہے یہ میری اِس مضمون کی تقریروں کا چوتھا نمبر ہے۔ان تقریروں کا محرک میرا ایک سفر ہوا تھا جو میں نے ۱۹۳۸ء میں کیا میں اس سال پہلے سندھ گیا وہاں سے کراچی، کراچی سے بمبئی اور بمبئی سے حیدر آباد کا سفر کیا۔ہر جگہ کے دوستوں نے مجھے وہاں کی اہم اور قابل دید جگہیں دکھانے پر اصرار کیا اور چونکہ میری ایک بیوی، بیٹی اور ہمشیرہ بھی ساتھ تھیں، اس لئے میں نے ضروری سمجھا کہ یہ قدیم آثار خود بھی دیکھوں اور ان کو بھی دکھاؤں ، خصوصاً حیدر آباد ، آگرہ اور دتی کے پرانے آثار دیکھنے کا ہمیں موقع ملا۔جب ہم دتی پہنچے تو ہم غیاث الدین تغلق کا قلعہ دیکھنے کے لئے گئے یہ قلعہ ایک اونچی جگہ پر واقع ہے اور ٹوٹا ہوا ہے ، لیکن سیڑھیاں قائم ہیں میری ایک بیوی اور لڑکی اس قلعہ کے اوپر چڑھ گئیں۔میں اُس وقت نیچے ہی تھا اوپر چڑھ کر انہوں نے مجھے کہا کہ یہاں بڑا اچھا نظارہ ہے، ساری دتی اس قلعہ پر سے نظر آ رہی ہے آپ بھی آئیں اور اس نظارہ سے لطف اندوز ہوں۔میرا سر چونکہ اونچائی پر چڑھنے سے چکرانے لگتا ہے اس لئے پہلے تو میں نے انکار کیا، لیکن پھر ان کے اصرار پر میں بھی اوپر چڑھ گیا اور میں نے دیکھا کہ واقع میں وہ ایک عجیب نظارہ تھا۔ساری دتی نظر آ رہی تھی اور یوں معلوم ہوتا تھا جیسے ایک فلم آنکھوں کے سامنے پھر رہی ہو، نہ