سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 197 of 900

سیر روحانی — Page 197

۱۹۷ انجیل اور دیدوں سے واقف ہو سکتا تھا کیا وہ اس امر سے نا واقف ہو سکتا تھا کہ بعض لوگ مُر دے دفن نہیں کرتے بلکہ جلا دیتے ہیں یا جانوروں کو کھلا دیتے ہیں۔الہی مغفرت کا ایک ایمان افروز واقعہ پھر علاوہ ان دلائل کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو علم تھا کہ بعض لوگ جلائے جاتے ہیں اور گو اس میں صرف ایک شخص کا ذکر آتا ہے مگر مسئلہ ایک کے ذکر سے بھی ثابت ہو جاتا ہے وہ حدیث یہ ہے ، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں انَّ رَجُلا حَضَرَهُ الْمَوْتُ فَلَمَّا يَئِسَ مِنَ الْحَيَوةِ أَوْصَى أَهْلَهُ إِذَا اَنَامِتُ فَاجْمَعُوالِى حَطَبًا كَثِيرًا وَاَوْقِدُوا فِيهِ نَارًا حَتَّى إِذَا أَكَلَتْ لَحْمِنُ وَخَلَصَتْ إِلَى عِظَامِي فَامْتَحَشَتْ فَخُذُوهَا فَاطْحَنُوهَا ثُمَّ انْظُرُوا يَوْمًا احًا فَاذْرُوهُ فِي الْيَمِّ فَفَعَلُوا فَجَمَعَهُ اللهُ فَقَالَ لَهُ لِمَ فَعَلْتَ ذَلِكَ قَالَ مِنْ خَشْيَتِكَ فَغَفَرَ اللهُ لَهُ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ بنی اسرائیل میں ایک شخص تھا جب اس کی موت کا وقت قریب آیا تو اس نے اپنے رشتہ داروں کو جمع کیا اور کہا کہ جب میں مر جاؤں تو لکڑیاں جمع کر کے اُن کو آگ لگانا اور پھر اس آگ میں مجھے ڈال دینا یہاں تک کہ میرا سارا گوشت کھایا جائے اور ہڈیاں گل جائیں پھر جو جلی ہوئی ہڈیاں باقی رہ جائیں ان کو خوب پینا اور جب کسی دن تیز آندھی آئے تو میری ان پسی ہوئی ہڈیوں کو دریا میں بہا دینا۔انہوں نے ایسا ہی کیا مگر اللہ تعالیٰ نے اُس کو پھر زندہ کر دیا اور اس سے پوچھا کہ تو نے ایسا کیوں کیا تھا؟ اس نے جواب دیا کہ خدایا! میں سخت گنہگار تھا اور میں ڈرتا تھا کہ اگر میری روح تیرے قابو آئی تو تو مجھے ضرور سزا دے گا۔اللہ تعالیٰ نے کہا جب تو مجھ سے اس قدر ڈرتا تھا تو جا میں نے تجھے معاف کر دیا۔اب دیکھو اس حدیث سے صاف ظاہر ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کا علم تھا کہ بعض لوگ جلائے جاتے ہیں کم سے کم ایک شخص کے متعلق آپ کو یقینی طور پر معلوم تھا کہ اُسے دفن نہیں کیا گیا بلکہ آگ میں جلایا گیا مگر پھر بھی وہ خدا کے قابو چڑھ گیا اور اسے زندہ کر کے اس نے اپنے سامنے کھڑا کر دیا۔پس در حقیقت وہ مَنْ فِی الْقُبُورِ میں ہی شامل تھا اور گو ر وہ جلا کر ہوا میں اُڑا دیا گیا مگر پھر بھی قرآنی اصطلاح میں اسے قبر والا ہی قرار دیا گیا ہے۔غرض اوّل تو قرآن کریم خدا کا کلام ہے جسے سب کچھ علم ہے، لیکن اگر نَعُوذُ بِاللهِ