سیر روحانی — Page 165
۱۶۵ بیت اللہ کی اہم اغراض قرآن کریم میں اس قلعہ کا ذکر ان الفاظ میں آتا ہے وَاذْ جَعَلْنَا الْبَيْتَ مَثَابَةً لِلنَّاسِ وَأَمْناً وَ اتَّخِذُوا مِنْ مَّقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلَّى وَ عَهِدْنَا إِلَى إِبْرَاهِيمَ وَ إِسْمَعِيلَ أَنْ طَهِّرَا بَيْتِيَ لِلطَّائِفِينَ وَالْعَكِفِينَ وَالرُّكَّعِ السُّجُودِ۔وَإِذْقَالَ إِبْرَاهِيمُ رَبِّ اجْعَلُ هذَا بَلَدًا آمِنًا وَارْزُقْ أَهْلَهُ مِنَ الثَّمَرَاتِ مَنْ آمَنَ مِنْهُمُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ قَالَ وَمَنْ كَفَرَ فَأُمَتِّعُهُ قَلِيلاً ثُمَّ اَضْطَرُّةٌ إِلى عَذَابِ النَّارِ وَبِئْسَ الْمَصِيرُ ٥ اُس وقت کو یاد کرو جب ہم نے بیت اللہ کو مَثَابَہ بنایا۔مَثَابَہ کے معنے ہیں مجتمع الناس یعنی لوگوں کے لئے جمع ہونے کا مقام۔اسی طرح مَشَابَہ کے ایک معنی لغت میں کنویں کی منڈیر کے بھی آتے ہیں۔۷۵ گویا جس طرح قلعہ اس لئے بنایا جاتا ہے تا کہ فوج وہاں جمع ہو کر اپنے نظام کو مضبوط کر سکے اسی طرح خدا نے بیت اللہ کو لوگوں کے جمع ہونے کا مقام بنایا۔اور جس طرح قلعہ کی یہ غرض ہوتی ہے کہ ناپسندیدہ عناصر اندر نہ آسکیں اسی طرح بیت اللہ کو خدا نے منڈیر بنایا تا کہ غیر پسندیدہ عناصر اس سے دُور رہیں۔پھر قلعہ کی تیسری غرض اردگرد کے علاقہ کی حفاظت کر کے امن قائم رکھنا ہوتی ہے یہ غرض بھی بیت اللہ میں پائی جاتی ہے چنانچہ خدا تعالیٰ نے کی امنا کہہ کر اس امر کی طرف اشارہ کیا اور بتایا کہ اسے قیامِ امن کے لئے بنایا گیا ہے گویا بیت اللہ کی نظام کے قیام کا مرکز بھی ہے غیر پسندیدہ عناصر کے دُور رکھنے کا ذریعہ بھی ہے اور دنیا کے امن کے قیام کا سبب بھی ہے۔پھر میں نے اور غور کیا تو مجھے قرآن کریم میں ایک یہ آیت نظر آئی کہ جَعَلَ اللهُ الْكَعْبَةَ الْبَيْتَ الْحَرَامَ قِيَامًا لِلنَّاسِ کہ ہم نے کعبہ کو جو خدا تعالیٰ کا بنایا ہو ا محفوظ گھر ہے قِيَامًا لِلنَّاسِ بنایا ہے۔قیام کے معنی نظام یا ستون کے ہوتے ہیں کے اور ان تمام چیزوں کے لئے یہ لفظ بولا جاتا ہے جن کے ذریعہ سے کوئی چیز اپنی اصل حالت پر رہے اور قیام کے معنے خبر گیر اور نگران اور انتظام کرنے کے بھی ہوتے ہیں کے پس قِيَامًا لِلنَّاسِ کے معنے ہوئے کہ کعبہ انسانوں کے نظام کو درست رکھنے کے لئے اور ان کی محبت کو قائم رکھنے کے لئے اور ان کی حالت کو درست اور ٹھیک رکھنے کے لئے اور ان کی خبر گیری اور نگرانی کے لئے بنایا گیا ہے۔جب میں نے یہ آیت پڑھی تو میں کی نے کہا کہ یہ وہ چیز ہے جو قلعہ کے مشابہ ہے کیونکہ اس کی غرض یہ بتائی گئی ہے کہ :-